حدیث نمبر: 2037
٢٠٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: أنا حجاج عن أبي جعفر وعطاء: أنهما (لم يريا) (١) بدم البراغيث، والبعوض بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر اور حضرت عطاء پسو اور مچھروں کے خون کو پاک سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2038
٢٠٣٨ - حدثنا (هشيم) (١) قال: أنا أشعث بن سوار عن الحسن أنه قال: كان الحسن لا يرى بدم الذباب والبعوض والبراغيث بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث بن سوار فرماتے ہیں کہ حسن مکھی، مچھر اور پسو کے خون کو پاک سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2039
٢٠٣٩ - حدثنا أبو معاوية عن هشام بن عروة قال: صليت وفي ثوبي دم ذباب فقلت، لأبي؟ فقال: لا يضرك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ایسے لباس میں نماز پڑھی جس پر مکھی کا خون لگا تھا اس بارے میں میں نے اپنے والد سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 2040
٢٠٤٠ - حدثنا الفضل بن دكين عن زهير عن جابر عن عامر وعطاء قالا: لا بأس بدم البراغيث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ پسو کے خون میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 2041
٢٠٤١ - حدثنا زاجر بن الصلت عن الحارث بن مالك قال: انطلقت إلى منزل الحسن، فجاء رجل، فسأله، فقال: يا أبا سعيد، الرجل يبيت في الثوب، فيصبح، وفيه من دم البراغيث شيء كثير؛ يغسله، أو ينضحه، أو يصلي فيه؟ قال: لا ينضحه ولا يغسله، يصلي فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن مالک کہتے ہیں کہ میں حسن کے گھر میں ان کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے سوال کیا کہ اگر ایک آدمی کسی کپڑے میں رات گذارے اور صبح اس کے کپڑوں پر پسو کا بہت سا خون لگا ہو تو کیا وہ اسے دھوئے، یا اس پر پانی چھڑکے یا انہی میں نماز پڑھ لے ؟ فرمایا کہ نہ اس پر پانی چھڑکے، نہ اسے دھوئے بلکہ اسی حال میں نماز پڑھ لے۔