کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک موزوں پر مسح کے لیے کوئی محدود مدت نہیں
حدیث نمبر: 1951
١٩٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر الحنفي (١) عن أسامة بن زيد عن إسحاق مولى (زائدة) (٢)، أن سعد بن أبي وقاص خرج من الخلاء، فتوضأ، ومسح على خفيه، فقيل له: أتمسح عليهما، وقد خرجت من الخلاء؟ قال نعم إذا أدخلت القدمين الخفين وهما طاهرتان، فامسح عليهما، ولا تخلعهما إلا لجنابة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص بیت الخلاء سے باہر تشریف لائے، آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح فرمایا۔ ان سے کسی نے کہا کہ آپ بیت الخلاء سے باہر آئے ہیں اور موزوں پر مسح کرتے ہیں ؟ فرمایا ہاں اگر تم نے پاؤں پاک ہونے کی حالت میں موزے پہنے ہوں تو ان پر مسح کرو اور سوائے جنابت کے انہیں نہ اتارو۔
حدیث نمبر: 1952
١٩٥٢ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا منصور، ويونس عن الحسن، أنه كان يقول في المسح على الخفين: امسح عليهما، ولا تجعل لذلك وقتا إلا من جنابة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن موزوں پر مسح کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ ان پر مسح کرو اور سوائے جنابت کے ان کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں۔
حدیث نمبر: 1953
١٩٥٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة: أنه كان لا يوقت في المسح (ويقول: امسح ما شئت) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ موزوں پر مسح کے لیے کسی مقررہ مدت کے قائل نہ تھے اور فرماتے تھے کہ جب تک چاہو مسح کرو۔
حدیث نمبر: 1954
١٩٥٤ - [حدثنا (عثام) (١) بن علي عن هشام بن عروة عن أبيه: أنه كان لا يوقت في المسح] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ موزوں پر مسح کے لیے کسی مقررہ وقت کے قائل نہ تھے۔
حدیث نمبر: 1955
١٩٥٥ - حدثنا حماد بن خالد عن معاوية بن صالح عن عياض بن عبد اللَّه القرشي عن يزيد بن أبي حبيب: أن أبا عبيدة بن الجراح بعث عقبة بن عامر الجهني إلى عمر بن الخطاب (بفتح) (١) دمشق فخرج يوم الجمعة، وقدم يوم الجمعة، فسأله عمر: متى خرجت؟ فأخبره، (وقال) (٢): لم أخلع لي خفا مذ خرجت، قال عمر: قد أحسنت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ابی حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے حضرت عقبہ بن عامر کو فتح دمشق کی خبر سنانے کے لیے حضرت عمر کے پاس بھیجا، وہ جمعہ کے دن روانہ ہوئے اور جمعہ کے دن ان کے پاس پہنچے۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا کہ تم کب روانہ ہوئے تھے ؟ انہوں نے بتایا یہ بھی بتایا کہ جب سے میں روانہ ہوا ہوں میں نے موزے نہیں اتارے۔ حضرت عمر نے فرمایا تم نے ٹھیک کیا۔