حدیث نمبر: 1754
١٧٥٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (أبي قيس) (١) عن (هزيل) (٢) أن أخاه أرقم بن شرحبيل سأل ابن مسعود، فقال: إني (أحتك) (٣)، فأفضي بيدي إلى فرجي؟ فقال ابن مسعود: إن علمت أن منك بضعة نجسة؛ فاقطعها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہزیل فرماتے ہیں کہ میرے بھائی ارقم بن شرحبیل نے حضرت ابن مسعود سے سوال کیا کہ بعض اوقات خارش کرتے ہوئے میرا ہاتھ شرم گاہ کو لگ جاتا ہے، اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہارا یہ عضو ناپاک ہے توا سے کاٹ دو ۔
حدیث نمبر: 1755
١٧٥٥ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: سأل رجل سعدا عن مس الذكر؟ فقال: إن علمت أن منك بضعة نجسة، فاقطعها (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک آدمی نے حضرت سعد سے مسِّ ذکر کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہارے جسم میں یہ ناپاک عضو ہے تو اسے کاٹ دو ۔
حدیث نمبر: 1756
١٧٥٦ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن (سعد بن عبيدة) (١) عن أبي عبد الرحمن عن حذيفة بن اليمان أنه قال: ما أبالي مسست ذكري أو أذني (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگاؤں یا اپنے کان کو ہاتھ لگاؤں۔
حدیث نمبر: 1757
١٧٥٧ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن (المنهال) (١) عن قيس (٢) بن سكن قال: قال عبد اللَّه: ما أبالي مسست ذكري، (أو أذني، أو إبهامي) (٣)، أو (أنفي) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میرے لیے شرم گاہ، انگوٹھے، کان یا ناک کو ہاتھ لگانا برابر ہے۔
حدیث نمبر: 1758
١٧٥٨ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس: مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1759
١٧٥٩ - حدثنا ابن فضيل ووكيع عن مسعر عن عمير بن (سعيد) (١) قال: كنت جالسا في مجلس فيه عمار بن ياسر، (فسئل) (٢) عن مس الذكر في الصلاة؟ فقال: ما هو إلا بضعة منك، وإن لكفك موضعا غيره (٣).
مولانا محمد اویس سرور
عمیر بن سعید کہتے ہیں کہ میں حضرت عمار بن یاسر کی مجلس میں بیٹھا تھا۔ ان سے نماز کے دوران مسِّ ذکر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یوں تو وہ تمہارا ایک عضو ہی ہے لیکن تم کسی اور جگہ بھی تو ہاتھ لگا سکتے ہو۔
حدیث نمبر: 1760
١٧٦٠ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن حميد عن الحسن أن عمران بن حصين قال: ما أبالي إياه مسست، أو بطن فخذي، يعني ذكره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ میرے لیے شرم گاہ اور ران کو ہاتھ لگانا برابر ہے۔
حدیث نمبر: 1761
١٧٦١ - حدثنا ملازم بن عمرو عن عبد اللَّه بن بدر عن قيس بن طلق عن أبيه طلق بن علي قال: خرجنا وفدا حتى قدمنا (على رسول اللَّه) (١) ﷺ فبايعناه، (وصلينا) (٢) معه، فجاء رجل فقال: يا رسول اللَّه ما ترى في مس الذكر في الصلاة؟ فقال: "وهل هو إلا بضعة، أو مضغة منك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! نماز کے دوران مس ذکر کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا کہ وہ تمہارا ایک عضو ہی تو ہے۔
حدیث نمبر: 1762
١٧٦٢ - حدثنا جرير عن قابوس عن (أبيه) (١) قال: سئل علي عن الرجل يمس ذكره؟ قال: لا بأس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مسِّ ذکر کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 1763
١٧٦٣ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن عبد اللَّه بن عثمان بن (خثيم) (١) عن سعيد بن جبير قال: سألته عن مس الذكر في الصلاة؟ فقال: ما أبالي مسسته، أو أنفي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے دوران نماز مسِّ ذکر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے لیے شرم گاہ اور ناک کو ہاتھ لگانا ایک جیسا ہے۔
حدیث نمبر: 1764
١٧٦٤ - حدثنا ابن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا بأس أن يمس الرجل ذكره في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ دوران نماز ذکر کو ہاتھ لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 1765
١٧٦٥ - حدثنا ابن علية عن (أبي حمزة) (١) عن إبراهيم قال: قال حذيفة: ما أبالي مسسته، أو طرف أنفي، وقال علي: ما أبالي مسسته، أو طرف أذني (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے لیے شرم گاہ اور ناک کے کنارے کو ہاتھ لگانا ایک جیسا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے لیے شرم گاہ اور کان کے کنارے کو ہاتھ لگانا ایک جیسا ہے۔
حدیث نمبر: 1766
١٧٦٦ - حدثنا يحيى بن (أبي بكير) (١) عن إبراهيم بن نافع عن ابن أبي نجيح قال: قال طاوس، وسعيد بن جبير: من مس ذكره وهو لا يريد؛ فليس عليه وضوء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس اور حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جس نے بلا قصد ذکر کو ہاتھ لگایا اس کا وضو نہیں ٹوٹا۔
حدیث نمبر: 1767
١٧٦٧ - حدثنا وكيع عن جعفر بن الزبير عن القاسم عن أبي أُمامة أن النبي ﷺ (سئل) (١) عن مس الذكر؟ فقال: "هل هو إلا (حذوة) (٢) منك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسِّ ذکر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ تمہارا ایک عضو ہی تو ہے۔
حدیث نمبر: 1768
١٧٦٨ - حدثنا حسين بن علي قال: حدثنا زائدة عن إبراهيم بن مهاجر عن عبد الرحمن بن علقمة عن عبد اللَّه أنه (سئل) (١) عن مس الذكر؟ فقال: (لا بأس به (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے مسِّ ذکر کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔