کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کے نزدیک ”مس ذکر“ کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے
حدیث نمبر: 1739
١٧٣٩ - حدثنا (عبد الأعلى) (١) بن عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عروة عن زيد بن خالد الجهني قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من مس فرجه، فليتوضأ" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن خالد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگایا وہ وضو کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1739
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن إسحاق صدوق صرح بالسماع عند أحمد، أخرجه أحمد (٢١٦٨٩) والطحاوي ١/ ٧٣ والطبراني (٥٢٢٢) وابن عدي ٦/ ٢١٢٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1739، ترقيم محمد عوامة 1735)
حدیث نمبر: 1740
١٧٤٠ - حدثنا (معلى) (١) بن منصور قال: حدثنا الهيثم بن حميد عن العلاء ابن الحارث عن مكحول عن عنبسة بن أبي سفيان عن أم حبيبة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "من مس فرجه فليتوضأ" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام حبیبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگایا وہ وضو کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1740
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1740، ترقيم محمد عوامة 1736)
حدیث نمبر: 1741
١٧٤١ - حدثنا ابن علية عن عبد اللَّه بن أبي بكر قال: سمعت عروة بن الزبير يحدث أبي قال: (ذاكرني) (١) (مروان) (٢) مس الذكر فقلت: ليس فيه وضوء قال: فإن بسرة ابنة صفوان تحدث فيه فبعث إليها رسولًا، فذكر أنها حدثت أن رسول اللَّه ﷺ قال: "من مس ذكره فليتوضأ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ مروان نے مجھ سے مسِّ ذکر کا تذکرہ کیا تو میں نے کہا کہ اس میں وضو نہیں ہے۔ وہ کہنے لگے کہ بسرہ بنت صفوان نے اس بارے میں حدیث بیان کی ہے۔ پھر انہوں نے بسرہ کی طرف ایک قاصد بھیجا جس نے آ کر بتایا کہ وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اپنے آلۂ تناسل کو ہاتھ لگایا وہ وضو کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1741
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٢٧٢٩٣) وأبو داود (١٨١) والنسائي ١/ ١٠٠ وابن حبان (١١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1741، ترقيم محمد عوامة 1737)
حدیث نمبر: 1742
١٧٤٢ - حدثنا ابن علية عن سلمة (١) بن علقمة عن ابن سيرين قال: سألت عبيدة عن قوله تعالى: ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾ [النساء: ٤٣] وقال بيده (فظننت) (٢) ما عنى، فلم (أسأله) (٣): (قال) (٤): ونبئت أن ابن عمر كان إذا مس فرجه توضأ، قال ⦗٣٥٠⦘ (محمد) (٥): فظننت أن قول ابن عمر، وقول عبيدة شيء واحد (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے اللہ تعالیٰ کے قول { أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ } کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، میں سمجھ گیا کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں پس میں نے ان سے سوال نہیں کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے بتایا گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب شرم گاہ کو ہاتھ لگاتے وضو کیا کرتے تھے۔ محمد فرماتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عبیدہ کا قول ایک ہی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1742
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1742، ترقيم محمد عوامة 1738)
حدیث نمبر: 1743
١٧٤٣ - حدثنا ابن علية عن شعبة عن يزيد الرشك قال سمعت جابر بن زيد يقول: إذا مسه (متعمدًا) (١)، أعاد الوضوء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص جان بوجھ کر شرم گاہ کو ہاتھ لگائے تو وضو کا اعادہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1743
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1743، ترقيم محمد عوامة 1739)
حدیث نمبر: 1744
١٧٤٤ - [حدثنا معتمر عن برد عن مكحول قال: إذا (أمسك) (١) ذكره توضأ] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص جان بوجھ کر شرم گاہ کو ہاتھ لگائے تو وضو کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1744
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1744، ترقيم محمد عوامة 1740)
حدیث نمبر: 1745
١٧٤٥ - [حدثنا حاتم بن إسماعيل عن برد عن مكحول قال: إذا أمسك ذكره؛ توضأ] (١).
مولانا محمد اویس سرور
عطا اور مجاہد (رحمہما اللہ) فرماتے تھے: جو شخص اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگائے، وہ وضو کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1745
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1745، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 1746
١٧٤٦ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن حرملة أنه سمع سعيد ابن المسيب يقول: من مس ذكره؛ فالوضوء عليه واجب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ جو شخص شرم گاہ کو ہاتھ لگائے تو اس پر وضو واجب ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1746
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1746، ترقيم محمد عوامة 1741)
حدیث نمبر: 1747
١٧٤٧ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن الزبير (بن عدي) (١) عن مصعب بن سعد قال: كانت أمسك على أبي المصحف، فأدخلت يدي هكذا -يعني مس ذكره- فقال له: توضأ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے سامنے قرآن پڑھتے ہوئے اگر شرم گاہ کو ہاتھ لگا لیتا تو وہ مجھے وضو کرنے کا حکم دیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1747
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه عبد الرزاق (٤١٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1747، ترقيم محمد عوامة 1742)
حدیث نمبر: 1748
١٧٤٨ - حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن نافع أن ابن عمر صلى يومًا من الضحى، وقال: إني كانت مسست ذكري، فنسيت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چاشت کے وقت فجر کی نماز قضاء کی اور فرمایا کہ میں نے (فجر سے پہلے) شرم گاہ کو ہاتھ لگایا تھا لیکن میں بھول گیا (اس لیے فجر کی نماز وضو کیے بغیر پڑھ لی چناچہ اب دوبارہ پڑھ رہا ہوں) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1748
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه عبد الرزاق (٤١٧) والطحاوي ١/ ٧٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1748، ترقيم محمد عوامة 1743)
حدیث نمبر: 1749
١٧٤٩ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن نافع أن ابن عمر كان إذا مس فرجه، أعاد الوضوء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما شرم گاہ کو ہاتھ لگانے کے بعد دوبارہ وضو کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1749
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1749، ترقيم محمد عوامة 1744)
حدیث نمبر: 1750
١٧٥٠ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) عن إبراهيم (عن نافع) (٢) قال: سمعت ابن أبي نجيح يذكر قال: قال عطاء ومجاهد: من مس ذكره، فليتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جس نے شرم گاہ کو چھوا وہ وضو کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1750
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1750، ترقيم محمد عوامة 1745)
حدیث نمبر: 1751
١٧٥١ - حدثنا معن بن عيسى عن محمد بن عبد اللَّه بن أخي الزهري (قال: سمعت الزهري) (١) يقول: من مس (ذكره) (٢)، توضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جس نے شرم گاہ کو چھوا وہ وضو کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1751
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1751، ترقيم محمد عوامة 1746)
حدیث نمبر: 1752
١٧٥٢ - حدثنا شبابة قال: حدثنا شعبة عن قتادة عن عطاء عن ابن عباس وابن عمر قالا: من مس ذكره توضأ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے شرم گاہ کو چھوا وہ وضو کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1752
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الطحاوي ١/ ٧٦، والبيهقي ١/ ١٣١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1752، ترقيم محمد عوامة 1747)
حدیث نمبر: 1753
١٧٥٣ - حدثنا غندر عن عبد الرحمن بن (خضير) (١) قال: (سئل) (٢) طاوس عن مس الذكر والرجل في الصلاة؟ فقال: أف، أف (ولمَ) (٣) يمسه؟! يتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی نماز میں ہو اور ذکر کو چھو لے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا : اف ! اف ! وہ اسے کیوں چھوتا ہے ؟ ایسے شخص کو وضو کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1753
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1753، ترقيم محمد عوامة 1748)