کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر چوہا، مرغی یا ان جیسا کوئی جانور کنویں میں گر جائے تو کتنا پانی نکالنا ہوگا ؟
حدیث نمبر: 1727
١٧٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حمزة الزيات عن عطاء بن السائب عن زاذان عن علي -في الفأرة تقع في (البئر) (١) - قال: [ينزح إلى أن يغلبهم الماء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر چوہا پانی میں گرجائے تو اتنا پانی نکالا جائے کہ پانی لوگوں پر غالب آجائے۔
حدیث نمبر: 1728
١٧٢٨ - حدثنا حفص (عن) (١) عاصم عن الحسن في الفأرة تقع في البئر قال] (٢): يستقى منها أربعون دلوًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر چوہا پانی میں گرجائے تو چالیس ڈول پانی نکالا جائے۔
حدیث نمبر: 1729
١٧٢٩ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم -في (الجرذ) (١) أو السنور (تقع) (٢) في (البئر) (٣) - قال: يدلوا منها أربعين دلوًا، قال مغيرة: حتى يتغير الماء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر پانی میں چوہا یا بلی گرجائے تو چالیس ڈول پانی نکالا جائے۔ حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ اتنا پانی نکالا جائے کہ پانی کا رنگ بدل جائے۔
حدیث نمبر: 1730
١٧٣٠ - حدثنا ابن (عليه) (١) عن (ليث) (٢) عن عطاء قال: إذا وقع الجرذ في البئر نزح منها عشرون دلوًا فإن تفسخ، فأربعون دلوًا، فإذا وقعت الشاة نزح منها أربعون دلوًا، فإن تفسخت نزحت كلها، أو مائة دلو.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر پانی میں جرذ گرجائے تو بیس ڈول پانی نکالا جائے اگر وہ پھول جائے تو چالیس ڈول نکالے جائیں۔ اگر بکری گرجائے تو چالیس ڈول نکالے جائیں اور اگر وہ پھول جائے تو سارا پانی یا چالیس ڈول نکالے جائیں۔
حدیث نمبر: 1731
١٧٣١ - حدثنا هشيم عن عبد اللَّه بن (سبرة) (١) عن الشعبي أنه قال: يدلى منها سبعون دلوًا، يعني: في الدجاجة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر کنویں میں مرغی گرجائے تو ستر ڈول پانی نکالا جائے۔
حدیث نمبر: 1732
١٧٣٢ - حدثنا يعلى بن عبيد عن عبد الملك عن عطاء -في البئر تقع (فيموت) (١) فيها الدجاجة وأشباهها- قال: استق منها دلوًا، وتوضأ منها، فإن هي تفسخت استق منها (أربعين) (٢) دلوًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کنویں میں مرغی یا اس جیسی کوئی اور چیز گر کر مرجائے تو اس سے ایک ڈول پانی نکال کر وضو کرلو اور اگر وہ پھول جائے تو اس سے چالیس ڈول پانی نکالو۔
حدیث نمبر: 1733
١٧٣٣ - حدثنا المحاربي عن الشيباني عن حماد -في البئر يقع فيها الدجاجة، والكلب والسنور، فتموت- قال: ينزح منها ثلاثين أو أربعين دلوًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر کنویں میں مرغی، کتا یا بلی وغیرہ گر کر مرجائیں تو اس میں سے تیس سے چالیس ڈول پانی نکالا جائے۔
حدیث نمبر: 1734
١٧٣٤ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن جعفر بن برقان عن الزهري -في الدابة تقع في (البئر) (١) - قال: إن لم يتغير طعم الماء، ولا ريحه فلا أرى بالماء بأسًا، فإن تغير طعم الماء وريحه؛ نزحوا منها حتى يطيب الماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر کنویں میں کوئی جانور گرجائے تو اگر پانی کا ذائقہ اور اس کی بو نہیں بدلی تو پانی میں کوئی حرج نہیں اور اگر پانی کا ذائقہ یا بو بدل جائے تو سارا پانی نکالا جائے گا یہاں تک کہ پانی پاک ہوجائے۔
حدیث نمبر: 1735
١٧٣٥ - حدثنا أسباط بن محمد عن عبد الملك عن سلمة بن كهيل -في الدجاجة تقع في البئر- قال: يستقى منها أربعون دلوًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن کہیل فرماتے ہیں کہ اگر مرغی کنویں میں گرجائے تو چالیس ڈول نکالے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 1736
١٧٣٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن خالد بن سلمة: أن عليًا سئل عن صبي بال في البئر قال: (ينزح) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اگر بچہ کنویں میں پیشاب کر دے تو اس کا کیا حکم ہے۔ فرمایا اس کا سارا پانی نکالا جائے گا۔
حدیث نمبر: 1737
١٧٣٧ - حدثنا هشيم عن منصور عن عطاء أن حبشيا وقع في زمزم، فمات (قال) (١): فأمر ابن الزبير أن ينزف ماء زمزم، قال: فجعل الماء لا ينقطع قال: ⦗٣٤٨⦘ فنظروا، فإذا عين تنبع من قبل الحجر الأسود (قال) (٢): فقال ابن الزبير: حسبكم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک حبشی چاہ زمزم میں گر کر مرگیا۔ حضرت ابن الزبیر نے حکم دیا کہ اب بئر زمزم کا سارا پانی نکالا جائے۔ لوگ پانی نکالنے لگے لیکن پانی بند نہ ہوتا تھا۔ دیکھا گیا کہ حجر اسود کی جانب سے ایک چشمہ پھوٹ رہا ہے جس کی وجہ سے زمزم کا پانی بند نہیں ہوتا۔ حضرت ابن الزبیر نے فرمایا کہ تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 1738
١٧٣٨ - حدثنا عباد بن العوام عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن ابن عباس (١) أن زنجيا وقع في زمزم فمات (قال) (٢): فأنزل إليه رجلًا، فأخرجه، (ثم قال) (٣): انزفوا ما فيها من ماء، ثم قال للذي في البئر: ضع دلوك من قبل العين التي تلي البيت، أو الركن، فإنها من عيون الجنة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک حبشی بئر زمزم میں گر کر مرگیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس میں ایک آدمی کو اتارا جس نے اس کو باہر نکالا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اس کا سارا پانی نکالو۔ پھر آپ نے کنویں میں موجود شخص سے فرمایا کہ اس چشمے کی طرف سے پانی نکالو جو بیت اللہ یا رکن کی طرف ہے کیونکہ یہ جنت کا چشمہ ہے۔