حدیث نمبر: 1688
١٦٨٨ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا ابن علية عن ابن جريج عن عطاء قال: أجنب أبو ذر وهو من النبي ﷺ على مسيرة ثلاث (فجاءه) (١) وقد انصرف من صلاة الصبح، وتبرز لحاجته، فالتفت إليه فوضع يده في التراب، فمسح وجهه، وكفيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو ذر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین دن کی مسافت پر تھے کہ جنابت کا شکار ہوگئے۔ پھر وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز سے فارغ ہو کر رفع حاجت کے لیے گئے، پھر حضرت ابوذر کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے ہاتھوں کو مٹی پر مار کر چہرے اور ہتھیلیوں پر پھیرلیا۔
حدیث نمبر: 1689
١٦٨٩ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع: أن ابن عمر (١) تيمم في (مربد) (٢) النعم، فقال بيديه على الأرض، فمسح بهما وجهه، ثم ضرب بهما على الأرض ضربة أخرى، ثم مسح بهما يديه إلى المرفقين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مقام مربد النعم میں کچھ اس طرح تیمم کیا کہ اپنے ہاتھوں کو زمین پر مار کر انہیں چہرے پر ملا، پھر انہیں ایک اور مرتبہ زمین پر مار کر کہنیوں تک دونوں ہاتھوں پر مل لیا۔
حدیث نمبر: 1690
١٦٩٠ - [حدثنا ابن علية عن أيوب قال: سألت سالمًا عن التيمم؟ قال: فضرب بيديه على الأرض (فمسح بهما وجهه ثم ضرب بهما على الأرض) (١) ضربة (أخرى) (٢) فمسح بهما يديه إلى المرفقين] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایوب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے تیمم کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مار کر انہیں چہرے پر ملا، پھر انہیں ایک اور مرتبہ زمین پر مار کر کہنیوں تک دونوں ہاتھوں پر مل لیا۔
حدیث نمبر: 1691
١٦٩١ - حدثنا ابن علية عن حبيب بن الشهيد: أنه سمع الحسن سئل عن التيمم؟ فضرب بيديه (إلى) (١) الأرض ضربة فمسح بهما وجهه، ثم ضرب (بيديه) (٢) على الأرض ضربة أخرى، (فمسح) (٣) بهما يديه إلى المرفقين.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے تیمم کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مار کر انہیں چہرے پر ملا، پھر انہیں ایک اور مرتبہ زمین پر مار کر کہنیوں تک دونوں ہاتھوں پر مل لیا۔
حدیث نمبر: 1692
١٦٩٢ - حدثنا ابن علية عن داود عن الشعبي قال: التيمم. ضربة للوجه، ولليدين إلى المرفقين. - ووصف لنا داود، فضرب بيديه على الأرض ضربة، ثم نفضهما، ثم مسح بهما كفيه، ثم مسح بهما وجهه، وذراعيه إلى المرفقين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ تیمم میں ایک مرتبہ زمین پر ہاتھ مارنا ہے چہرے کے لیے بھی اور کہنیوں تک دونوں بازوؤں کے لیے بھی۔ داؤد نے تیمم کا طریقہ یوں بیان کیا کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک مرتبہ زمین پر مارا پھر انہیں جھاڑا، پھر دونوں ہتھیلیوں کو آپس میں ملا، پھر دونوں ہاتھ چہرے پر اور پھر دونوں بازوؤں پر کہنیوں تک مل لیے۔
حدیث نمبر: 1693
١٦٩٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق قال: قال أبو موسى (لعبد اللَّه) (١): ألم تسمع قول (عمار) (٢): بعثني رسول اللَّه ﷺ في حاجة فأجنبت، فلم أجد الماء فتمرغت في الصعيد، كما تمرغ الدابة، ثم أتيت النبي ﷺ فذكرت ذلك ⦗٣٣٩⦘ له فقال: "إنما (كان) (٣) يكفيك أن تقول بيديك هكذا"، ثم ضرب بيديه الأرض ضربة واحدة، ثم مسح الشمال على اليمين، وظاهر كفيه ووجهه، فقال عبد اللَّه: أو لم تر عمر لم يقنع بقول عمار! (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عبد اللہ سے فرمایا کہ کیا آپ نے حضرت عمار کا یہ قول نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا تو میں جنبی ہوگیا مجھے پانی نہ ملا تو میں مٹی میں جانور کی طرح لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ساری بات عرض کی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ تم اپنے دونوں ہاتھوں سے یوں کرلیتے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک مرتبہ زمین پر مارا، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ پر پھیرا، پھر ہاتھوں کے ظاہری حصے اور چہرے کا مسح کیا۔ یہ سن کر حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عمر نے حضرت عمار کے قول پر اکتفا نہیں کیا تھا۔
حدیث نمبر: 1694
١٦٩٤ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن سلمة بن كهيل عن ابن أبزى عن أبيه قال: قال عمار: لعمر أما تذكر يومًا، كنا في كذا وكذا، (فأجنبنا) (١)، فلم نجد الماء، فتمعكنا في التراب، فلما قدمنا على النبي ﷺ ذكرنا ذلك له فقال: "إنما كان يكفيك هذا"، ثم ضرب (الأعمش) (٢) بيديه ضربة، ثم نفخهما، ثم مسح بهما وجهه وكفيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابزی کے والد روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمار نے حضرت عمر سے کہا کہ کیا آپ کو وہ دن یاد نہیں جب فلاں وقت میں ہم جنبی ہوگئے تھے اور ہمیں پانی نہ ملا تو ہم مٹی میں لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ جب ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ساری بات عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تمہارے لیے اتنا ہی کافی تھا۔ یہ کہہ کر راوی اعمش نے اپنے دونوں ہاتھ مٹی میں مارے پھر ان میں پھونک ماری پھر انہیں اپنے چہرے اور ہتھیلیوں پر مل لیا۔
حدیث نمبر: 1695
١٦٩٥ - حدثنا معتمر (عن) (١) برد عن مكحول: في التيمم يضرب بيديه الأرض، ويمسح بهما وجهه وكفيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول تیمم کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ددونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر انہیں اپنے چہرے اور اپنے ہاتھوں پر مل لے۔
حدیث نمبر: 1696
١٦٩٦ - حدثنا جرير عن مغيرة عن (حماد) (١) عن إبراهيم قال: كان يحب أن يبلغ بالتيمم المرفقين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ تیمم میں کہنیوں تک کا احاطہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 1697
١٦٩٧ - حدثنا ابن مهدي (عن زمعة) (١) عن ابن طاوس عن أبيه أنه قال: التيمم ضربتان، ضربة للوجه، وضربة للذراعين إلى المرفقين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ تیمم میں دو ضربیں ہیں ایک چہرے کے لیے اور دوسری کہنیوں تک بازوؤں کے لیے۔
حدیث نمبر: 1698
١٦٩٨ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن حماد بن الجعد عن قتادة عن ابن سيرين، (وصالح أبي الخليل) (١) أنهما قالا: التيمم للوجه، (والكفين) (٢) وقال سعيد بن المسيب، وابن عمر: للوجه، (والذراعين) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین اور حضرت صالح ابو الخلیل فرماتے ہیں کہ تیمم میں چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح ہے اور حضرت سعید بن مسیب اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تیمم میں چہرے اور بازوؤں کا مسح ہے۔
حدیث نمبر: 1699
١٦٩٩ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: (أمر) (١) بالتيمم فيما أمر فيه بالغَسل، يعني إنما هو للوجه، والذراعين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ تیمم میں ان چیزوں کے مسح کا حکم دیا گیا ہے جن چیزوں کے وضو میں دھونے کا حکم دیا گیا ہے یعنی چہرہ اور بازو۔
حدیث نمبر: 1700
١٧٠٠ - حدثنا معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: التيمم (ضربتان) (١)، ضربة للوجه، وضربة (لليدين) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ تیمم میں دو ضربیں ہیں ایک چہرے کے لیے اور ایک دونوں ہاتھوں کے لیے۔
حدیث نمبر: 1701
١٧٠١ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن أبي مالك عن عمار: أنه تيمم، فمسح بيديه التراب، ثم نفضهما، ثم مسح بهما وجهه، ويديه، ولم يمسح ذراعيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مالک فرماتے ہیں کہ حضرت عمار نے اس طرح تیمم کیا کہ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر انہیں جھاڑا، پھر انہیں اپنے چہرے اور بازوؤں پر ملا لیکن اپنے بازوؤں کا مسح نہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 1702
١٧٠٢ - حدثنا ابن علية عن سعيد عن قتادة عن (عزرة) (١) عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزى عن أبيه عن عمار عن النبي ﷺ أنه قال في التيمم: "ضربة للوجه، والكفين" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیمم کے بارے میں فرمایا کہ ایک ضرب چہرے اور ہاتھوں کے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 1703
١٧٠٣ - حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل عن الشعبي قال: رأيته يضرب بيديه الأرض، ثم (ينفضهما) (١)، ثم يمسح بهما وجهه.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی کو دیکھا کہ انہوں نے پہلے زمین پر ہاتھ مارے، پھر انہیں جھاڑا پھر انہیں چہرے پر مل لیا۔
حدیث نمبر: 1704
١٧٠٤ - حدثنا وكيع عن (عزرة) (١) بن ثابت عن أبي الزبير عن جابر: أنه ضرب بيديه الأرض ضربة، فمسح بهما وجهه، ثم ضرب بهما الأرض ضربة أخرى، فمسح بهما ذراعيه إلى المرفقين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الزبیر فرماتے ہیں کہ حضرت جابر نے ایک مرتبہ زمین پر ہاتھ مارے پھر انہیں چہرے پر ملا پھر دوسری مرتبہ زمین پر ہاتھ مارے اور انہیں کہنیوں تک بازوؤں پر مل لیا۔
حدیث نمبر: 1705
١٧٠٥ - حدثنا عباد بن العوام عن (برد) (١) عن سليمان بن موسى عن أبي هريرة قال لما نزلت آية التيمم لم (أدر) (٢) كيف أصنع؟، فأتيت النبي ﷺ فلم أجده، فانطلقت أطلبه فاستقبلته، فلما (رأني) (٣)، عرف الذي جئت له، فبال، ثم ضرب بيديه الأرض، فمسح بهما وجهه، وكفيه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب آیت تیمم نازل ہوئی تو مجھے تیمم کا طریقہ معلوم نہ تھا۔ لہٰذا میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن میں نے آپ کو نہ پایا، میں آپ کی تلاش میں نکلا، جب آپ نے مجھے دیکھا تو آپ کو معلوم ہوگیا کہ میں کیوں آیا ہوں۔ لہٰذا آپ نے پیشاب کیا، پھر اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا پھر ان دونوں کو اپنے چہرے اور بازوؤں پر مل لیا۔
حدیث نمبر: 1706
١٧٠٦ - حدثنا ابن مهدي عن زمعة عن ابن طاوس عن أبيه أنه قال -في التيمم-: (ضربتان) (١)، ضربة للوجه، وضربة للذراعين إلى المرفقين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ تیمم میں دو ضربیں ہیں ایک چہرے کے لیے اور دوسری کہنیوں تک بازوؤں کے لیے۔