کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کے نزدیک جنبی تیمم نہیں کر سکتا
حدیث نمبر: 1683
١٦٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن (الأسود) (١) عن عمر قال: لا يتيمم الجنب، وإن لم يجد الماء شهرًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جنبی تیمم نہیں کرسکتا خواہ اسے ایک مہینے تک پانی نہ ملے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1683
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٣٤٧) ومسلم (٣٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1683، ترقيم محمد عوامة 1679)
حدیث نمبر: 1684
١٦٨٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم قال: قال عبد اللَّه: إذا كنت في سفر، فأجنبت فلا تصل حتى تجد الماء، وإن أحدثت فتيمم، ثم صل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب تم کسی سفر میں جنبی ہو جاؤ تو اس وقت تک نماز نہ پڑھو جب تک تمہیں پانی نہ مل جائے اور جب تمہارا وضو ٹوٹ جائے تو تیمم کر کے نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1684
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1684، ترقيم محمد عوامة 1680)
حدیث نمبر: 1685
١٦٨٥ - حدثنا سفيان بن عيينة عن (أبي سنان) (١) عن (الضحاك) (٢) قال: رجع عبد اللَّه عن قوله في التيمم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ضحاک فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے تیمم کے بارے میں اپنے قول سے رجوع کرلیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1685
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1685، ترقيم محمد عوامة 1681)
حدیث نمبر: 1686
١٦٨٦ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن (زبيد) (١) قال: أجنبت، فلم أجد الماء، فسألت أبا عطية، فقال: لا تصل، وسألت سعيد بن جبير فقال: تيمم وصل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں جنابت کا شکار ہوگیا، میرے پاس پانی نہ تھا، میں نے حضرت ابو عطیہ سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نماز نہ پڑھو، حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تیمم کر کے نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1686
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1686، ترقيم محمد عوامة 1682)
حدیث نمبر: 1687
١٦٨٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق قال: كنت جالسًا مع (عبد اللَّه) (١)، وأبي موسى، فقال أبو موسى: يا أبا عبد الرحمن أرأيت لو أن رجلًا أجنب فلم يجد الماء شهرًا كيف يصنع بالصلاة؟ وقال عبد اللَّه: لا يتيمم، وإن لم يجد الماء شهرًا، فقال أبو موسى: فكيف بهذه الآية في سورة المائدة: ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ فقال عبد اللَّه: لو رخص لهم في هذا، لأوشكوا إذا برد عليهم الماء أن يتيمموا بالصعيد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عبد اللہ اور حضرت ابو موسیٰ کے پاس بیٹھا تھا۔ حضرت ابو موسیٰ نے کہا : ” اے ابو عبد الرحمن ! آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی آدمی حالت جنابت میں ہو اور اسے ایک مہینے تک پانی نہ ملے تو وہ نماز کا کیا کرے ؟ حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ وہ تیمم نہ کرے خواہ اسے ایک مہینے تک پانی نہ ملے۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا کہ سورة المائدہ کی اس آیت کا کیا کیا جائے ؟ : اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو اس کی رخصت دے دی جائے تو وہ پانی کے ٹھنڈا ہونے کے خوف سے بھی تیمم کرنے لگیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1687
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٣٤٦) ومسلم (٣٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1687، ترقيم محمد عوامة 1683)