کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استنجاء کرنا چاہئے
حدیث نمبر: 1633
١٦٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد الرحيم) (١) بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن معاذة عن عائشة قالت: (مرن) (٢) أزواجكن أن يغسلوا أثر الغائط والبول؛ فإن رسول اللَّه ﷺ كان يفعله، وأنا استحييهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے (عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے) فرمایا کہ اپنے شوہروں کو اس بات کا حکم دو کہ پیشاب یا پاخانہ کرنے کے بعد پانی استعمال کریں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یونہی کیا کرتے تھے، میں مردوں کو یہ بات کرنے سے شرماتی ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1633
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد ٦/ ١١٣ والترمذي (١٩) والنسائي ١/ ٤٢، والبيهقي ١/ ١٠٥ وابن حبان (١٤٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1633، ترقيم محمد عوامة 1629)
حدیث نمبر: 1634
١٦٣٤ - حدثنا هشيم قال: أنا منصور عن ابن سيرين: أن عائشة كانت تقول للنساء: مرن أزواجكن أن يستنجوا بالماء، إذا خرجوا من الغائط (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عورتوں کو حکم دیا کرتی تھیں کہ اپنے خاوندوں کو حکم دو کہ رفع حاجت کے بعد پانی سے استنجاء کرلیا کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1634
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح وانظر: [١٦٣٣].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1634، ترقيم محمد عوامة 1630)
حدیث نمبر: 1635
١٦٣٥ - حدثنا هشيم عن حصين عن (ذر) (١) عن مسلم بن سبرة بن المسيب (بن نجبة) (٢) عن عمته فريعة وكانت تحت حذيفة- أنها قالت: كان حذيفة يستنجي بالماء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فریعہ (جو کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں) فرماتی ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ پانی سے استنجاء کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1635
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1635، ترقيم محمد عوامة 1631)
حدیث نمبر: 1636
١٦٣٦ - حدثنا أبو بكر عن غندر ووكيع عن شعبة عن عطاء بن أبي ميمونة أنه سمع أنسا يقول: كان النبي ﷺ يدخل الخلاء، (فأحمل) (١) أنا وغلام نحوي إداوة، ⦗٣٢٦⦘ (وعنزة) (٢)، فيستنجي بالماء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیت الخلاء کی طرف تشریف لے جاتے تو میں اور میری عمر کا ایک اور لڑکا پانی کا برتن اور نیزے کی لاٹھی ساتھ لے کر جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی سے استنجاء کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1636
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٥١) ومسلم (٢٧١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1636، ترقيم محمد عوامة 1632)
حدیث نمبر: 1637
١٦٣٧ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن الأوزاعي قال: أنا أبو (النجاشي) (١) قال: صحبت رافع بن خديج في سفر فكان يستنجي بالماء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نجاشی فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضرت رافع بن خدیج کے ساتھ تھا، وہ پانی سے استنجاء کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1637
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1637، ترقيم محمد عوامة 1633)
حدیث نمبر: 1638
١٦٣٨ - حدثنا أزهر عن ابن عون عن أنس بن سيرين: أن أنس بن مالك دخل الخلاء، فدعا بتور، وأشنان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو پانی کا برتن اور اشنان بوٹی منگوایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1638
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وانظر: (١٦٤٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1638، ترقيم محمد عوامة 1634)
حدیث نمبر: 1639
١٦٣٩ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: بلغني أن رسول اللَّه ﷺ لم يدخل العلاء إلا توضأ أو مس ماء (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو وضو کرتے یا پانی سے ہاتھ دھویا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1639
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، وأخرجه ابن حبان (١٤٤١) متصلًا من حديث عائشة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1639، ترقيم محمد عوامة 1635)
حدیث نمبر: 1640
١٦٤٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي مسلمة أنه سمع أبا (نضرة) (١) يحدث عن أبي سعيد مولى أبي أَسيد وكان (بدريًا) (٢) قال: كان أَبو أَسيد إذا أتى الخلاء، آتيته بماء، فاستبرأ منه، قال شعبة: يعني يستنجي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید مولی ابی اسید فرماتے ہیں کہ ابو اسید جب بیت الخلاء میں جاتے تو میں ان کے لئے پانی لے آتا تو وہ اس سے استنجا کرتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1640
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1640، ترقيم محمد عوامة 1636)
حدیث نمبر: 1641
١٦٤١ - حدثنا ابن دكين عن قوة عن بديل العقيلي عن مطرف بن عبد اللَّه بن الشخير قال: حدثني أعرابي قال: صحبت أبا ذر فكل أخلاقه أعجبتني، إلا خلق واحد، قلت: ما هو؟ قال: كان إذا خرج (من الخلاء) (١) استنجى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے ایک دیہاتی نے بیان کیا کہ میں ابو ذر کے ساتھ رہا ہوں، ان کے تمام اخلاق و عادات مجھے اچھی لگیں سوائے ایک عادت کے ! میں نے پوچھا وہ کون سی عادت ہے ؟ وہ کہنے لگا جب وہ بیت الخلاء سے باہر آتے تو پانی سے استنجاء کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1641
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1641، ترقيم محمد عوامة 1637)
حدیث نمبر: 1642
١٦٤٢ - حدثنا يحيى بن آدم عن ابن مبارك عن معمر عن الزهري: أن عمر بن الخطاب استطاب بالماء بين (راحلتين) (١) قال: فجعل أصحاب النبي ﷺ يضحكون، ويقولون: يتوضأ كمثل المرأة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے دو کجاوؤں کے درمیان بیٹھ کر پانی سے استنجاء کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ہنسنے لگے اور کہنے لگے یہ تو عورت کی طرح وضو کر رہے ہیں ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1642
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1642، ترقيم محمد عوامة 1638)
حدیث نمبر: 1643
١٦٤٣ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير: أن أنسا كان يستنجي (بالحرض) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت انس اشنان کے پانی سے استنجاء کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1643
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وانظر: [١٦٣٨].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1643، ترقيم محمد عوامة 1639)
حدیث نمبر: 1644
١٦٤٤ - حدثنا هشيم عن عبد الحميد بن جعفر عن مجمع بن يعقوب بن مجمع: أن رسول اللَّه ﷺ قال لعويم بن ساعدة: "ما هذا الطهور الذي أثنى اللَّه عليكم؟ " قالوا: نغسل الأدبار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجمع بن یعقوب روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عویم بن ساعدہ سے فرمایا کہ تم کیسی طہارت حاصل کرتے ہو جس پر اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعریف کی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی شرم گاہوں کو پانی سے دھوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1644
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1644، ترقيم محمد عوامة 1640)
حدیث نمبر: 1645
١٦٤٥ - حدثنا يحيى بن آدم قال حدثنا مالك بن مغول قال سمعت سيارا أبا الحكم غير مرة يحدث عن شهر بن حوشب عن محمد بن يوسف بن عبد اللَّه بن سلام قال: (لما قدم رسول اللَّه ﷺ علينا -يعني قباء- قال) (١): "إن اللَّه قد أثنى ⦗٣٢٨⦘ عليكم في (الطهور) (٢) خيرًا، أفلا تخبروني؟ " قال: يعني قوله (تعالى) (٣): ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ﴾ [التوبة: ١٠٨] قال: فقالوا: يا رسول اللَّه إنا لنجده مكتوبًا علينا في التوراة: الاستنجاء بالماء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبد اللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قباء تشریف لائے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری طہارت کی تعریف فرمائی ہے، تم کیا کرتے ہو ؟ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تھی : اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاکی کا اہتمام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ قباء والوں نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہم نے تورات میں لکھے ہوئے دیکھا تھا کہ استنجاء پانی سے ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1645
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ لحال شهر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1645، ترقيم محمد عوامة 1641)
حدیث نمبر: 1646
١٦٤٦ - حدثنا حفص عن داود (وابن) (١) أبي (ليلى) (٢) عن الشعبي قال: لما نزلت هذه الآية قال رسول اللَّه ﷺ: "يا أهل قباء، ما هذا الثناء الذي أثنى اللَّه عليكم؟ " قالوا: ما منا أحد إلا وهو يستنجي بالماء من الخلاء: ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ﴾ [التوبة: ١٠٨] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے قباء والو ! اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعریف آخر کس بات پر کی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم میں ہر شخص جب وہ بیت الخلاء سے باہر آتا ہے تو پانی سے استنجاء کرتا ہے۔ وہ آیت یہ ہے : اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاک رہنے کا خیال رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ خوب پا ک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1646
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل وأخرجه الطبري ١١/ ٢٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1646، ترقيم محمد عوامة 1642)
حدیث نمبر: 1647
١٦٤٧ - [حدثنا (حاتم) (١) بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه: أن هذه الآية: نزلت في أهل قباء ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ﴾] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ یہ آیت قباء والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے : اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاک رہنے کا خیال رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ خوب پا ک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1647
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1647، ترقيم محمد عوامة 1643)
حدیث نمبر: 1648
١٦٤٨ - حدثنا ابن علية عن يزيد (الرشك) (١) عن معاذة عن عائشة قالت: مرن أزواجكن أو قالت: رجالكن أن يغسلوا عنهم أثر (الحش) (٢) فإنا نستحيي أن ⦗٣٢٩⦘ نأمرهم بذلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عورتوں سے فرمایا کہ اپنے خاوندوں کہ حکم دو کہ اپنے جسم سے پاخانے کے اثرات کو دھوئیں، مجھے اس بات سے شرم محسوس ہوتی ہے کہ میں انہیں ایسا کہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1648
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وانظر (١٦٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1648، ترقيم محمد عوامة 1644)
حدیث نمبر: 1649
١٦٤٩ - حدثنا يحيى بن يعلى عن عبد الملك بن عمير قال: قال علي: إن من كان قبلكم كانوا يبعرون بعرا، وإنكم تثلطون ثلطا، فأتبعوا الحجارة بالماء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم سے پہلے لوگ اونٹ کی مینگنیوں جیسا سخت پاخانہ کیا کرتے تھے اور تم نرم پاخانہ کرتے ہو، اس لئے پتھر سے صاف کرنے کے بعد پانی کا استعمال کیا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1649
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1649، ترقيم محمد عوامة 1645)