کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک شخص کے مہندی لگانے کے بارے میں کیا حکم ہے جب وہ پہلے سے ہی تیل (یا دیگر چیز) لگائی ہوئی ہو؟
حدیث نمبر: 1548
١٥٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يمسون الحناء بعد النورة، وكانوا يكرهون أن (يؤثر) (١) في الأظفار.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف چونے کا پتھر استعمال کرنے کے بعد مہندی کو ہاتھ لگا لیتے تھے وہ اس بات کو مکروہ خیال کرتے تھے کہ ناخنوں پر اس کا اثر پڑے۔
حدیث نمبر: 1549
١٥٤٩ - حدثنا عبدة بن سليمان عن عبد الملك عن عطاء في الحناء، والخلوق للرجل بعد النورة قال: أما الحناء؛ فلا بأس، وأما الخلوق (١) فإني أكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا فرماتے ہیں کہ چونے کا پتھر استعمال کرنے کے بعد مہندی لگانے میں کوئی حرج نہیں جبکہ خلوق (ایک زرد مائع خوشبو) کو میں مکروہ سمجھتا ہوں۔
حدیث نمبر: 1550
١٥٥٠ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن أبيه قال: كان لي على (الحسين) (١) بن علي دين، فأتيته أتقاضاه، فوجدته قد خرج من الحمام، وقد أثر ⦗٣٠٩⦘ الحناء بأظافيره، وجارية تحك عنه الحناء بقارورة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابو خالد کہتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے میرا قرضہ دینا تھا۔ میں ان سے اس کا تقاضا کرنے آیا تو وہ حمام سے باہر آئے تھے ان کے ناخنوں پر مہندی کے نشانات تھے اور باندی شیشے سے مہندی صاف کر رہی تھی۔