کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ پانی پاک ہے اسے کوئی چیز نا پاک نہیں کرتی
حدیث نمبر: 1517
١٥١٧ - (حدثنا أبو بكر قال) (١) حدثنا أبو أسامة عن الوليد بن كثير عن محمد ابن كعب عن عبيد اللَّه بن عبد الرحمن بن رافع بن خديج عن أبي سعيد الخدري قيل: يا رسول اللَّه (أنتوضأ) (٢) من بئر بضاعة؟ -قال: وهي بئر (يلقى) (٣) فيها ⦗٣٠٢⦘ الحيض، ولحم الكلاب، والنتن- فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن الماء طهور لا ينجسه شيء" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کیا ہم بئر بضاعہ سے وضو کرلیا کریں ؟ (بئر بضاعہ ایک کنواں تھا جس میں حیض کے کپڑے، کتوں کا گوشت اور گندگی پھینکی جاتی تھی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” پانی پاک کرنے والا ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی “۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1517
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1517، ترقيم محمد عوامة 1513)
حدیث نمبر: 1518
١٥١٨ - حدثنا ابن علية (عن عوف) (١) الأعرابي قال: حدثنا في مجلس الأشياخ قبل وقعة ابن الأشعث شيخ فكان يقص علينا قال: بلغني أن أصحاب رسول اللَّه ﷺ كانوا في مسير لهم، فانتهوا إلي غدير في ناحية منه جيفة، فأمسكوا عنه، حتى أتاهم رسول اللَّه ﷺ فقالوا: يا رسول اللَّه، هذه الجيفة في ناحيته؟ فقال: "اسقوا واستقوا فإن الماء يحل، ولا يحرم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک مرتبہ ایک سفر کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ایک ایسے تالاب کے پاس پہنچے جس کے ایک کنارے مردار جانور پڑا تھا۔ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتظار میں رک گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! اس کے ایک کنارے پر یہ مردار پڑا ہے۔ آپ نے فرمایا یہ پیو اور سیراب ہو کر پیو، پانی حلال کرتا ہے حرام نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1518
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1518، ترقيم محمد عوامة 1514)
حدیث نمبر: 1519
١٥١٩ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن عكرمة قال: مر رسول اللَّه ﷺ بغدير فقالوا: يا رسول اللَّه إن الكلاب تلغ فيه والسباع؟ فقال رسول اللَّه ﷺ: "للسبع ما أخذ في بطنه، وللكلب ما أخذ في بطنه؛ فاشربوا، وتوضؤوا"، قال: فشربوا وتؤضئوا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک تالاب کے پاس سے گذرے تو لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! اس تالاب سے کتے اور درندے پانی پیتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ درندے نے جو پیا اس کے پیٹ میں ہے اور کتے نے جو پیا اس کے پیٹ میں ہے تم اس میں سے پیو اور وضو کرو۔ پس لوگوں نے اس میں سے پیا اور وضو کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1519
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1519، ترقيم محمد عوامة 1515)
حدیث نمبر: 1520
١٥٢٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب عن ميمون بن أبي شبيب أن عمر ابن الخطاب مر بحوض (مجنة) (١) فقال: (اسقوني منه) (٢)، فقالوا: إنه ترده السباع، والكلاب، والحمير، فقال: لها ما حملت في بطونها، وما بقي فهو لنا طهور وشراب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن ابی شبیب کہتے ہیں کہ حضرت عمر مقام مجنہ کے ایک حوض کے پاس سے گذرے اور فرمایا کہ مجھے اس سے پانی پلاؤ۔ لوگوں نے کہا کہ اس سے درندے، کتے اور گدھے پانی پیتے ہیں۔ فرمایا ان کا وہ ہے جو انہوں نے پی لیا جو باقی بچا وہ وضو کے لئے اور پینے کے لئے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1520
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1520، ترقيم محمد عوامة 1516)
حدیث نمبر: 1521
١٥٢١ - حدثنا هشيم قال: أنا حصين عن عكرمة أن عمر بن الخطاب أتى على حوض من الحياض، فأراد أن يتوضأ، ويشرب، فقال أهل الحوض: إنه تلغ فيه الكلاب والسباع، فقال عمر: إن لها ما ولغت في بطونها، قال: فشرب، وتوضأ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ایک حوض کے پاس سے گذرے تو اس میں سے پینے اور وضو کرنے کا ارادہ کیا۔ حوض والوں نے بتایا کہ اس میں سے کتے اور درندے پیتے ہیں۔ فرمایا ان کے لئے وہ ہے جو انہوں نے پی لیا۔ پھر آپ نے اس میں سے پیا اور وضو بھی فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1521
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1521، ترقيم محمد عوامة 1517)
حدیث نمبر: 1522
١٥٢٢ - حدثنا ابن عيينة عن منبوذ عن أمه أنَّها كانت تسافر (مع ميمونة) (١)، فتمر بالغدير فيه الجعلان (٢) (والبعر) (٣) فيستقى لها منه، فتتوضأ، وتشرب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منبوذ کی والدہ فرماتی ہیں کہ وہ ایک سفر میں حضرت میمونہ کے ساتھ تھیں انہوں نے ایک ایسے حوض سے پانی پیا جس میں جعلان نامی کیڑا اور مینگنیاں تھیں اور اس سے وضو بھی کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1522
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1522، ترقيم محمد عوامة 1518)
حدیث نمبر: 1523
١٥٢٣ - حدثنا ابن علية عن حبيب بن شهاب عن أبيه: أنه سأل أبا هريرة عن سؤر الحوض (تردها) (١) السباع، ويشرب منها (الحمار؟) (٢) فقال: لا يحرم الماء شيء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے ایسے حوض کے بارے میں سوال کیا گیا جس سے درندے اور گدھے پانی پیتے تھے۔ آپ نے فرمایا پانی کو کوئی چیز حرام نہیں کرتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1523
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1523، ترقيم محمد عوامة 1519)
حدیث نمبر: 1524
١٥٢٤ - حدثنا ابن علية عن إسرائيل عن (الزبرقان) (١) قال: حدثنا كعب بن عبد اللَّه قال: كنا مع حذيفة، فانتهينا إلي غدير فيه الميتة، وتغتسل فيه الحائض. فقال: الماء لا (يخبث) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک ایسے تالاب پر پہنچے جس میں مردار پڑا تھا اور حائضہ عورتیں اس میں غسل کرتی تھیں۔ آپ نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1524
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1524، ترقيم محمد عوامة 1520)
حدیث نمبر: 1525
١٥٢٥ - حدثنا حفص عن ليث عن مجاهد قال: الماء طهور لا ينجسه إلا النجس، يعني المشرك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد نے فرمایا کہ پانی کو انتہائی ناپاک مشرک کے علاوہ کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1525
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1525، ترقيم محمد عوامة 1521)
حدیث نمبر: 1526
١٥٢٦ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس: أن النبي ﷺ قال: "الماء (لا يجنب) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پانی ناپاک نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1526
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، أخرجه أحمد (١٧٨٦٥)، والترمذي (٦٣)، وأبو داود (٨٢)، وابن ماجة (٣٧٣)، والنسائي (٣٤٠)، وابن حبان (١٢٦٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1526، ترقيم محمد عوامة 1522)
حدیث نمبر: 1527
١٥٢٧ - حدثنا وكيع عن أبي العميس عن أبي الربيع عن ابن أبي ليلى قال: الماء لا ينجسه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1527
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1527، ترقيم محمد عوامة 1523)
حدیث نمبر: 1528
١٥٢٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الجريري عمن سمع سعيد بن المسيب يقول: الماء لا ينجسه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1528
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1528، ترقيم محمد عوامة 1524)
حدیث نمبر: 1529
١٥٢٩ - حدثنا يزيد بن المقدام عن أبيه المقدام عن جده عن عائشة قالت: إنه ليس يكون على الماء جنابة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پانی ناپاک نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1529
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ المقدام صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1529، ترقيم محمد عوامة 1525)
حدیث نمبر: 1530
١٥٣٠ - حدثنا ابن علية عن داود عن ابن المسيب قال: أنزل اللَّه الماء طهورا، فلا ينجسه شيء، (وربما قال: لا ينجسه شيء) (١)، قال داود: وذلك أننا سألناه عن الغدران، والحياض تلغ فيها الكلاب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن المسیب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کو پاک کرنے والا نازل کیا ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ داؤد فرماتے ہیں کہ حضرت سعید نے یہ بات اس لئے فرمائی کہ ہم نے ان سے ان حوضوں اور تالابوں کے بارے میں سوال کیا تھا جن میں کتے منہ مار دیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1530
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1530، ترقيم محمد عوامة 1526)
حدیث نمبر: 1531
١٥٣١ - حدثنا ابن علية، عن ابن عون قال: قلت للقاسم بن محمد: الغدير (نأتيه) (١)، وقد ولغ فيه الكلاب، وشرب منه الحمار، (نشرب - منه؟) (٢)، قال ابن ⦗٣٠٥⦘ عون: (أو قلت) (٣) (أنتوضأ) (٤) منه؟ - فنظر إليَّ، فقال: إذا أتى أحدكم الغدير (ينتظر) (٥)، حتى يسأل: أي كلب ولغ فيه، وأي حمار شرب من هذا؟!.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم ایسے تالابوں پر جاتے ہیں جن میں کتے نے منہ مارا ہوتا ہے یا گدھے نے پانی پیا ہوتا ہے۔ کیا ہم اس میں سے پی سکتے ہیں یا اس میں سے وضو کرسکتے ہیں حضرت قاسم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا کہ جب تم کسی حوض پر جاؤ تو انتظار کرو اور سوال کرو کہ کتے نے اس میں منہ مارا ہے یا کسی گدھے نے اس میں سے پانی پیا ہے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1531
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1531، ترقيم محمد عوامة 1527)
حدیث نمبر: 1532
١٥٣٢ - حدثنا وكيع عن يزيد (بن) (١) إبراهيم قال: سئل الحسن عن الحياض التي تكون في طريق مكة (تردها) (٢) الحمير، والسباع؟ قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے ان تالابوں کے بارے میں سوال کیا گیا جو مکہ کے راستے میں ہیں اور ان میں گدھے اور درندے منہ مارتے ہیں، فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1532
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1532، ترقيم محمد عوامة 1528)
حدیث نمبر: 1533
١٥٣٣ - حدثنا هشيم عن حصين عن عكرمة قال: الماء طهور لا ينجسه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ پانی پاک کرنے والا ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1533
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1533، ترقيم محمد عوامة 1529)
حدیث نمبر: 1534
١٥٣٤ - [حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي (عمر) (١) البهراني عن ابن عباس قال: الماء طهور لا ينجسه شيء] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پانی پاک کرنے والا ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1534
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو عمر يحيى بن عبيد البهراني صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1534، ترقيم محمد عوامة 1530)
حدیث نمبر: 1535
١٥٣٥ - حدثنا جرير عن عيسى بن المغيرة عن سعيد بن جبير قال: الماء لا ينجس.
مولانا محمد اویس سرور
سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ پانی ناپاک نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1535
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1535، ترقيم محمد عوامة 1531)
حدیث نمبر: 1536
١٥٣٦ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عبد ربه عن صالح (أن) (١) جابر بن (زيد) (٢) قال لرجل: صب علي وهو في الحمام، قال: إني جنب! فقال: قم، فاغتسل، فإن الماء لا ينجسه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید نے ایک آدمی سے کہا کہ میرے اوپر پانی ڈالو۔ وہ حمام میں تھے۔ اس نے کہا میں جنبی ہوں۔ فرمایا جاؤ غسل کرو کیونکہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1536
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1536، ترقيم محمد عوامة 1532)