حدیث نمبر: 1501
١٥٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن هشام عن حماد عن ربعي بن حراش قال: قال سلمان: إذا حك أحدكم جلده، فلا يمسحه ببزاقه؛ فإن البزاق ليس بطاهر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی خارش کرے تو اپنے جلد پر تھوک نہ لگائے کیونکہ تھوک پاکیزہ چیز نہیں۔
حدیث نمبر: 1502
١٥٠٢ - حدثنا حفص عن الأعمش قال: قيل له: هل كان إبراهيم يكره البزاق؟ قال: إنما كان يكره أن يحك الرجل جلده، ثم يتبعه بريقه؛ فإن ذلك ليس بطهور.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش سے پوچھا گیا کہ کیا ابراہیم تھوک کو ناپسند سمجھتے تھے ؟ فرمایا وہ اس بات کو ناپسند خیال فرماتے تھے کہ آدمی خارش کرنے کے بعد اپنی جلد پر تھوک لگائے کیونکہ تھوک پاک نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1503
١٥٠٣ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن إبراهيم: أنه (كان) (١) يكره أن يجعل البزاق على القرحة تكون به.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس بات کو ناپسند خیال فرماتے تھے کہ آدمی اپنے پھوڑے پر تھوک لگائے۔
حدیث نمبر: 1504
١٥٠٤ - حدثنا زاجر بن الصلت عن الحارث بن مالك قال: انطلقت إلى منزل الحسن، وجاءه رجل، فسأله فقال: يا أبا سعيد الرجل يحك إما جسده، وإما ذراعيه، ثم يقول: بريقه (عليه) (١) فيمسحه عليه، يتوضأ منه؟ قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن مالک کہتے ہیں کہ میں حسن کے مکان میں تھا کہ ایک آدمی نے آ کر ان سے سوال کیا کہ اے ابو سعید ! ایک آدمی اپنے جسم یا اپنے بازوؤں پر خارش کرتا ہے پھر اپنا تھوک اس پر لگا کر ملتا ہے تو کیا وہ وضو کرے ؟ فرمایا نہیں۔
حدیث نمبر: 1505
١٥٠٥ - حدثنا سعيد بن يحيى الحميري قال: حدثنا أبو العلاء قال: كنا عند قتادة، فتذاكروا عنده قول إبراهيم، وقول الكوفيين في البزاق يغسل، قال: فحك قتادة ساقه، ثم أخذ من ريقه شيئا، ثم أمره عليه؛ ليرينا أنه ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العلاء فرماتے ہیں کہ ہم حضرت قتادہ کے پاس تھے کہ لوگوں نے ان کے سامنے ابراہیم اور کو فیین کے قول کا تذکرہ کیا کہ تھوک کو دھویا جائے تو حضرت قتادہ نے ہمیں یہ بتانے کے لئے کہ تھوک کوئی چیز نہیں اپنی پنڈلی پر خارش کی پھر اپنی تھوک کو اس پر مل دیا۔