حدیث نمبر: 1488
١٤٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن هشام عن أبيه أنه كان يقول لبنيه: لا (توضؤوا) (١) من الدمل إلا مرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ پھنسیوں کی وجہ سے صرف ایک مرتبہ وضو کرو۔
حدیث نمبر: 1489
١٤٨٩ - حدثنا (أبو خالد الأحمر) (١) عن سيف قال: كان بمجاهد قرحة (تمصل) (٢)، فكان لا يتوضأ، (ويصيب) (٣) ثوبه، فلا يغسله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سیف فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد کو ایک پھوڑا نکلا ہوا تھا جو بہتا رہتا تھا، وہ اسکی وجہ سے وضو نہیں کرتے تھے اور اگر کپڑے کو لگ جاتا تو دھوتے نہیں تھے۔
حدیث نمبر: 1490
١٤٩٠ - حدثنا جرير عن (القعقاع) (١) قال: قلت لإبراهيم: رجل به دماميل كثيرة، فلا تزال تسيل؟ قال: يغسل مكانها، ويتوضأ، ويبادر فيصلي.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جسے بہت سی پھنسیاں نکلی ہوں اور وہ بہتی رہتی ہوں تو وہ کیا کرے ؟ فرمایا وہ ان کے نشان دھوتا رہے اور وضو کر کے نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 1491
١٤٩١ - حدثنا هشيم عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي أنه سئل عن رجل به (الناصور؟) (١) فقال: يصلي، وإن سال من قرنه إلى قدمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جسے بواسیر کے چھالے نکلے ہوں تو فرمایا کہ وہ نماز پڑھتا رہے وہ بہہ کر پاؤں تک ہی کیوں نہ پہنچ جائیں۔
حدیث نمبر: 1492
١٤٩٢ - حدثنا عباد بن العوام عن (سعيد) (١) (عن) (٢) (أبي معشر) (٣) عن ⦗٢٩٦⦘ إبراهيم، في الرجل يصلي، وفي ثوبه (الحبون) (٤) قال: (لا يغسله حتى يبرأ، فإذا برأ؛ غسل ثوبه) قال: وقد رأيت إبراهيم يصلي وفي ثوبه صديد من (حبون) (٥) كانت به.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جسے چھالے ہوں اور ان کے نشانات کپڑوں پر لگ جائیں۔ تو فرمایا کہ جب تک ٹھیک نہ ہوجائے کپڑے دھونے کی ضرورت نہیں اور جب ٹھیک ہوجائے کپڑے دھو لے۔ ابراہیم ان کپڑوں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے جن پر پھنسیوں کی پیپ کے نشان ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 1493
١٤٩٣ - حدثنا (ابن) (١) (عيينة) (٢) عن (أُمي) (٣) قال: رأيت طاوسا يصلي، وكأن ثوبه نطع من قروح كانت بساقيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امی فرماتے ہیں کہ حضرت طاوس کو ایسے کپڑوں میں نماز پڑھتے دیکھا ہے جو ان کی پنڈلیوں کے دانوں کے نشانات کی وجہ سے اس چمڑے کی طرح لگتے تھے۔