کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک سمندر کا پانی وضو کے لیے کافی نہیں اور اس سے وضو کرنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 1404
١٤٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن قتادة عن عقبة بن صهبان قال: سمعت ابن عمر يقول: التيمم أحب إليَّ من الوضوء من ماء البحر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تیمم میرے نزدیک سمندر کے پانی سے وضو کرنے سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 1405
١٤٠٥ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن هشام عن قتادة عن (أبي أيوب) (١) عن عبد اللَّه بن عمرو قال: ماء البحر لا يجزئ من وضوء، ولا جنابة، [إن تحت البحر نارا ثم ماءً ثم نارا (٢)] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سمندر کا پانی غسل جنابت اور وضو کے لیے کافی نہیں، کیونکہ سمندر کے نیچے آگ پھر پانی پھر آگ ہے۔
حدیث نمبر: 1406
١٤٠٦ - حدثنا ابن علية عن هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن رجل من الأنصار (عن أبي هريرة) (١) قال: ماءان لا يجزئان من غسل الجنابة: ماء البحر، وماء الحمام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ دو پانی ایسے ہیں جن سے غسل جنابت نہیں ہوسکتا، ایک سمندر کا پانی اور دوسرا حمام کا پانی۔
حدیث نمبر: 1407
١٤٠٧ - حدثنا إسحاق بن سليمان عن أبي جعفر عن الربيع بن أنس عن أبي العالية: أنه ركب البحر، (فنفد) (١) ماؤهم فتوضأ بنبيذ، وكره أن يتوضأ (من ماء) (٢) البحر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن انس کہتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ سمندر کے سفر پر تھے کہ ان کا پانی ختم ہوگیا۔ حضرت ابو العالیہ نے نبیذ سے وضو کیا اور سمندر کے پانی سے وضو کرنے کو مکروہ خیال فرمایا۔