کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: چھوٹے بچے کے پیشاب کا حکم اگر وہ کپڑے پر لگ جائے
حدیث نمبر: 1297
١٢٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه عن أم قيس ابنة محصن قالت: دخلت بابن (لي) (١) على رسول اللَّه ﷺ، لم يأكل الطعام، فبال عليه، فدعا بماء، فرشه (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام قیس بنت محصن فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے ایک بچے کو لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ بچہ ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑوں پر پیشاب کردیا۔ آپ نے پانی منگوا کر پیشاب والی جگہ چھڑک دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1297
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٢٢٣) ومسلم (٢٨٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1297، ترقيم محمد عوامة 1296)
حدیث نمبر: 1298
١٢٩٨ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن قابوس (بن المخارق) (١) عن لبابة ابنة الحارث قالت: بال الحسين بن علي (في) (٢) حجر النبي ﷺ، فقلت يا رسول اللَّه، أعطني ثوبك، والبس ثوبًا غيره، فقال: "إنما ينضح من بول الذكر ويغسل من بول الأنثى" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لبابہ بنت الحارث فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑوں پر پیشاب کردیا تو میں نے عرض کیا ” اپنے کپڑے مجھے دے دیجئے اور کوئی دوسرے کپڑے پہن لیجئے “ آپ نے فرمایا : ” لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1298
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب، أخرجه أحمد (٢٦٨٧٥) وأبو داود (٣٧٥) وابن ماجه (٥٢٢) وسيأتي ١٤/ ١٧١ برقم [٣٨٨٧٩].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1298، ترقيم محمد عوامة 1297)
حدیث نمبر: 1299
١٢٩٩ - حدثنا وكيع عن هشام عن أبيه عن عائشة: أن النبي ﷺ أتي بصبي، فبال عليه؛ فأتبعه الماء، ولم يغسله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ ایک بچے نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑوں پر پیشاب کردیا۔ آپ نے اس پر پانی ڈالا لیکن اسے دھویا نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1299
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٢٢٢) ومسلم (٢٨٦) وأخرجه ابن ماجه (٥٢٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1299، ترقيم محمد عوامة 1298)
حدیث نمبر: 1300
١٣٠٠ - حدثنا وكيع (عن) (١) ابن أبي ليلى عن أخيه عيسى عن أبيه عبد الرحمن ابن أبي ليلى عن جده أبي ليلى قال: كنا عند النبي ﷺ جلوسا، فجاء الحسين بن ⦗٢٥٨⦘ علي يحبو، حتى جلس على صدره، فبال عليه قال: فابتدرناه لنأخذه فقال النبي ﷺ: "ابني، ابني"، ثم دعا بماء، فصبه عليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو لیلیٰ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک پر چڑھ گئے اور پیشاب کردیا۔ ہم جلدی سے انہیں پکڑنے کے لیے آگے بڑے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” میرا بچہ، میرا بچہ “ پھر پانی منگوا کر اس کے اوپر ڈال دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1300
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ابن أبي ليلى، أخرجه أحمد (١٩٠٥٧) والطحاوي ١/ ٩٤ والطبراني (٦٤٢٣) والدارمي (١٦٤٣) وابن أبي عاصم في الأحاد (٢١٥١) وسيأتي ١٤/ ١٧٢ برقم [٣٨٨٨١].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1300، ترقيم محمد عوامة 1299)
حدیث نمبر: 1301
١٣٠١ - حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن (قتادة) (١) عن أبي جعفر قال: دخل النبي ﷺ على أم الفضل، ومعها حسين، فناولته إياه، فبال على بطنه، أو على صدره، فأرادت أن تأخذه منه فقال النبي ﷺ: "لا (تزرمي) (٢) ابني (لا تزرمي ابني) (٣) فإن بول الغلام يرشح، أو ينضح، وبول الجارية يغسل" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ام الفضل کے ہاں تشریف لائے۔ ام الفضل کے پاس حضرت حسین تھے، انہوں نے حضرت حسین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیے تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک پر پیشاب کردیا۔ حضرت ام الفضل بچے کو پکڑنے لگیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بچے کو پیشاب سے نہ روکو، میرے بچے کو پیشاب سے نہ روکو، لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1301
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1301، ترقيم محمد عوامة 1300)
حدیث نمبر: 1302
١٣٠٢ - [حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن أبي حرب بن أبي الأسود قال: قال علي: بول الغلام ينضح، وبول الجارية يغسل] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1302
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أبو داود (٣٧٧) وعبد الرزاق (١٤٨٨) والبيهقي ٢/ ٤١٥، ورواه آخرون مرفوعًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1302، ترقيم محمد عوامة 1301)
حدیث نمبر: 1303
١٣٠٣ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن الحسن قال: كلاهما ينضحان، ما لم يأكلا الطعام.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ لڑکا اور لڑکی جب تک کھانا نہ کھائیں اس وقت تک ان کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1303
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1303، ترقيم محمد عوامة 1302)
حدیث نمبر: 1304
١٣٠٤ - حدثنا وكيع عن الفضل بن دلهم عن الحسن عن أمه (عن أم سلمة) (١) قالت: يغسل بول الجارية، وينضح بول الغلام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1304
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1304، ترقيم محمد عوامة 1303)
حدیث نمبر: 1305
١٣٠٥ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال: (يجري على بول الصبي الماء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ بچے کے پیشاب پر پانی بہایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1305
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1305، ترقيم محمد عوامة 1304)
حدیث نمبر: 1306
١٣٠٦ - حدثنا وكيع عن معن عن منصور عن إبراهيم قال: إن كان طعم؛ غسل؛ وإن لم يكن طعم؛ صب عليه الماء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر بچہ کھانا کھاتا ہو تو اس کا پیشاب دھویا جائے گا اور اگر نہ کھاتا ہو تو اس کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1306
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1306، ترقيم محمد عوامة 1305)
حدیث نمبر: 1307
١٣٠٧ - حدثنا وكيع عن واقد عن عطاء قال: قال له رجل: يحمل أحدنا الصبي، فيصيبه من أذاه، قال إن كان طعم؛ غسل، وإن لم يكن طعم صب عليه الماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر بچہ کھانا کھاتا ہو تو اس کا پیشاب دھویا جائے گا اور اگر نہ کھاتا ہو تو اس کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1307
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1307، ترقيم محمد عوامة 1306)
حدیث نمبر: 1308
١٣٠٨ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: يصب الماء على بول الصبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ بچے کے پیشاب پر پانی بہایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1308
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1308، ترقيم محمد عوامة 1307)
حدیث نمبر: 1309
١٣٠٩ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: الصبي ما لم يأكل الطعام، (تغسل) (٢) ثوبك من بوله، (وسلحه) (٣) -أيضا- قال: ارشش عليه الماء، أو اصبب عليه، قلت: فالصبي يلعق قبل أن يأكل الطعام من السمن والعسل، وذلك طعام؟ قال: ارشش عليه، أو اصبب عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے عرض کیا کہ اگر بچہ کھانا نہ کھاتا ہو تو کیا اس کے پیشاب یا پاخانے سے آپ اپنے کپڑے دھوئیں گے ؟ فرمایا اس پر پانی چھڑک لو یا بہا لو۔ میں نے عرض کیا کہ بچے کو کھانا شروع کرنے سے پہلے گھی یا شہد چٹایا جاتا ہے کیا یہ کھانا ہے ؟ فرمایا اس صورت میں دھو لو یا پانی چھڑک لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1309
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1309، ترقيم محمد عوامة 1308)
حدیث نمبر: 1310
١٣١٠ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج عن ابن شهاب قال: مضت السنة أنه يرش بول من لم يأكل الطعام، ومضت السنة بغسل بول من أكل الطعام من الصبيان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ شریعت کا حکم یہی رہا ہے کہ کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے اور کھانا کھانے والے بچے کے پیشاب کو دھویا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1310
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1310، ترقيم محمد عوامة 1309)