حدیث نمبر: 1278
١٢٧٨ - (حدثنا أبو بكر) (١) قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة قال: سئل علي عن الرجل يمس اللحم النيء، فيصيب يده منه شيء؟ قال: لا عليه أن لا يتوضأ إذا مسه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی تازہ گوشت کو ہاتھ لگائے اور اس کے ہاتھ پر کچھ لگ بھی جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا اس پر وضو لازم نہیں۔
حدیث نمبر: 1279
١٢٧٩ - حدثنا عبدة عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن قال: ليس عليه وضوء إلا أن يغسل يده.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اس پر وضو لازم نہیں البتہ ہاتھ دھولے۔
حدیث نمبر: 1280
١٢٨٠ - حدثنا وكيع عن أبي هلال عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: يتوضأ من اللحم النيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ تازہ گوشت کو ہاتھ لگانے والا شخص وضو کرے گا۔
حدیث نمبر: 1281
١٢٨١ - حدثنا غندر عن أشعث (عن الحسن) (١) في رجل مس لحما نيا قال: لا بأس به، وليس عليه وضوء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو تازہ گوشت کو ہاتھ لگائے تو فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں اور اس کا وضو بھی نہیں ٹوٹا۔
حدیث نمبر: 1282
١٢٨٢ - حدثنا محمد بن عبيد عن عبد الملك عن عطاء قال: إن كان أصاب يده أثر منه؛ فليغسل يده وإلا فلا يغسلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر ہاتھ پر اس کا نشان لگ جائے تو اسے دھولے ورنہ دھونے کی بھی ضرورت نہیں۔