حدیث نمبر: 1270
١٢٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن عروة: أنه كان يستحب أن لا ينام إلا على طهارة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ آدمی جب بھی سوئے باوضو ہو کر سوئے۔
حدیث نمبر: 1271
١٢٧١ - [حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن أنه كان يستحب أن لا ينام إلا على طهارة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ آدمی جب بھی سوئے باوضو ہو کر سوئے۔
حدیث نمبر: 1272
١٢٧٢ - حدثنا محمد بن فضيل عن ليث عن عكرمة قال: من بات طاهرا على ذكر، كان (١) فراشه مسجدا له حتى يقوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کا ذکر کرتے ہوئے باوضو ہو کر سوئے اس کا بستر اٹھنے تک اس کے لیے مسجد کے حکم میں ہے۔
حدیث نمبر: 1273
١٢٧٣ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد: قال من استطاع منكم أن يبيت طاهرا على ذكر مستغفرا لذنوبه، فإنه بلغنا أن الأرواح تبعث على ما قبضت عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر تم سے ہو سکے تو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے، اپنے گناہوں پر استغفار کرتے ہوئے باوضو ہو کر سوؤ، کیونکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ روحوں کو اسی حال میں اٹھایا جائے گا جس حال میں انہیں قبض کیا گیا۔
حدیث نمبر: 1274
١٢٧٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي سنان عن أبي صالح الحنفي قال: إذا آوى الرجل إلي فراشه طاهرا؛ مسحه الملك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح حنفی فرماتے ہیں جب آدمی باوضو ہو کر اپنے بستر کی طرف آتا ہے تو فرشتے اس کے بستر کو ہاتھ لگاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1275
١٢٧٥ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن شهر عن أبي أمامة قال: من بات ذاكرا طاهرا، ثم (تعار) (١) من الليل، لم يسأل اللَّه حاجة للدنيا؛ والآخرة إلا أعطاه اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ جو شخص باوضو ہو کر سوئے اور رات کو اس کی آنکھ کھلے تو دنیا و آخرت کی جو چیز وہ اللہ تعالیٰ سے مانگے گا اللہ تعالیٰ اسے عطا فرمائیں گے۔
حدیث نمبر: 1276
١٢٧٦ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن الأعمش قال: حدثت عن ابن عباس: أنه كان إذا قام من الليل تيمم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما جب رات کو بیدار ہوتے تو تیمم فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 1277
١٢٧٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أنا العوام عن شهر بن حوشب عن عمرو ابن عبسة قال: إذا آوى الرجل إلي فراشه على طهر، فذكر اللَّه حتى تغلبه عيناه، (و) (١) كان أول ما يقول حين يستيقظ: سبحانك لا إله إلا أنت اغفر لي؛ انسلخ من ذنوبه كما تنسلخ الحية من جلدها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص باوضو ہو کر بستر پر لیٹے اور سونے تک اللہ کا ذکر کرتا رہے اور بیدار ہو کر سب سے پہلے یہ کہے ” اے اللہ ! تو پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو میری مغفرت فرما “ تو وہ گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے سانپ اپنی کھال سے نکل جاتا ہے۔