کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: پرندے کی بیٹ کپڑوں پر لگ جائے تو ان میں نماز کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 1262
١٢٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن عاصم عن أبي عثمان قال: كنا جلوسًا مع عبد اللَّه إذ وقع عليه خرء عصفور فقال له هكذا بيده؛ نفضه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان کہتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ان پر چڑیا کی بیٹ گرگئی اور انہوں نے اسے ہٹا دیا۔
حدیث نمبر: 1263
١٢٦٣ - حدثنا حفص عن ابن جريج عن (١) عطاء قال: رأيته وألقى عليه طير من طير مكة، فجعل يمسحه بيده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ حضرت عطا پر مکہ کے ایک پرندے نے بیٹ کردی تو انہوں نے اسے اپنے ہاتھ سے صاف کردیا۔
حدیث نمبر: 1264
١٢٦٤ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن قال: سقطت (هامة) (١) على الحسن، (فذرقت) (٢) عليه، فقال له بعض القوم: نأتيك بماء تغسله؟ فقال: لا، وجعل يمسحه عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث کہتے ہیں کہ ایک الّو نے حسن پر بیٹ کردی۔ ایک آدمی نے کہا کہ ہم آپ کے لیے پانی لے آتے ہیں آپ اسے دھو لیجئے۔ فرمایا اس کی ضرورت نہیں پھر اسے ہاتھ سے صاف کردیا۔
حدیث نمبر: 1265
١٢٦٥ - حدثنا وكيع عن أبي الأشهب السعدي قال: رأيت يزيد بن عبد اللَّه بن الشخير أبا العلاء ذرق عليه طير، وهو يصلي، فمسحه (١)، ثم مضى في صلاته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشہب سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت یزید بن عبداللہ کو دیکھا کہ دورانِ نماز ایک پرندے نے ان پر بیٹ کردی تو انہوں نے اس کو صاف کر کے اپنی نماز کو جاری رکھا۔
حدیث نمبر: 1266
١٢٦٦ - حدثنا وكيع عن حنظلة قال: رأيت سالما (سلح) (١) عليه طير، فمسحه وقال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنظلہ فرماتے ہیں ایک پرندے نے حضرت سالم پر بیٹ کردی، انہوں نے اسے صاف کردیا اور فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 1267
١٢٦٧ - [حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن خرء الطير؟ فقالا: لا بأس به] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد اور حضرت حکم سے پرندے کی بیٹ کے بارے میں پوچھا تو دونوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔