کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کیا آدمی نیند سے بیدار ہونے کے بعد برتن میں ہاتھ داخل کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1054
١٠٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي رزين عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا قام أحدكم من الليل، فلا يغمس يده في الإناء حتى يغسلها ثلاث مرات؛ فإنه لا يدري أين باتت يده" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی رات کو اٹھے تو اس وقت تک اپنا ہاتھ پانی میں داخل نہ کرے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیوں کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے ؟
حدیث نمبر: 1055
١٠٥٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا قام أحدكم من نومه، فليفرغ على يده من ⦗٢١٢⦘ إنائه ثلاث مرات، فإنه لا يدري أين باتت يده" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو تو برتن سے اپنے ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالے کیوں کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے کہاں رات گزاری ہے ؟
حدیث نمبر: 1056
١٠٥٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن هشام عن ابن سيرين عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا قام أحدكم من الليل فلا يدخل يده في الإناء حتى يغسلها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص رات کو بیدار ہو تو اپنے ہاتھ کو دھونے سے پہلے برتن میں داخل نہ کرے۔
حدیث نمبر: 1057
١٠٥٧ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إذا استيقظ الرجل (من) (١) نومه فلا يدخل يده في الإناء حتى يغسلها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی نیند سے بیدار ہو تو ہاتھ کو دھونے سے پہلے برتن میں داخل نہ کرے۔
حدیث نمبر: 1058
١٠٥٨ - حدثنا ابن نمير عن أشعث عن الشعبي قال: النائم والمستيقظ سواء، إذا وجب عليه الوضوء؛ فلا يدخل يده في الإناء حتى يغسلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ سو یا ہوا اور بیدار ہونے والا برابر ہیں جب اس پر وضو واجب ہو تو ہاتھوں کو دھونے سے پہلے برتن میں داخل نہ کرے۔
حدیث نمبر: 1059
١٠٥٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: كان أصحاب عبد اللَّه إذا ذكر عندهم حديث أبي هريرة قالوا: كيف يصنع أبو هريرة (بالمهراس) (١) الذي بالمدينة؟ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ کے شاگردوں کے سامنے حضرت ابوہریرہ کی حدیث بیان کی جاتی تو فرماتے کہ ابوہریرہ اس مہر اس کا کیا کریں گے جو مدینہ میں ہے۔ مہر اس چٹان کو کہا جاتا ہے جس میں بہت سا پانی سما جاتا ہے۔ اس سے پانی کے حوض بنائے جاتے ہیں۔ (النھایۃ ٥/٢٥٩)