کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ایک آدمی سفر میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہو
حدیث نمبر: 1042
١٠٤٢ - حدثنا الحسن بن (سعد) (١) قال: حدثنا أبو عبد الرحمن (بقي بن مخلد) (٢) قال: حدثنا أبو بكر عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة. قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن الأَعمش عن معاوية بن (قرة) (٣) قال: قدم على رسول اللَّه ﷺ نفر من بني قشير فقالوا: إنا نعزب عن الماء، ومعنا أهلونا وليس معنا من الماء إلا لشفاهنا؟ قال: "نعم، وإن كان ذلك (٤) سنة أو سنتين" (٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1042
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ معاوية تابعي، أخرجه أبو داود في المراسيل (٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1042، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 1043
١٠٤٣ - حدثنا جرير عن أشعث عن جعفر عن سعيد بن جبير قال: كان ابن عباس في سفر مع أناس من أصحاب رسول اللَّه ﷺ فيهم عمار بن ياسر، فكانوا يقدمونه يصلي بهم لقرابته من رسول اللَّه ﷺ (فصلى) (١) بهم ذات يوم ثم التفت إليهم، فضحك، فأخبرهم أنه أصاب من جارية له رومية وصلى بهم وهو جنب (متيمم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضررت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ ایک سفر میں تھے حضرت عمار بن یاسر بھی آپ کے ساتھ تھے۔ لوگ نماز کے لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو قرابت رسول اللہ کی وجہ سے آگے کرتے تھے۔ ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں نماز پڑھائی، پھر ان کی طرف متوجہ ہوئے اور مسکرا کر فرمایا : ” میں نے ایک رومی باندی سے صحبت کی پھر تمہیں حالت جنابت میں تیمم کرکے نماز پڑھائی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1043
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف، أخرجه البيهقي (٢١٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1043، ترقيم محمد عوامة 1042)
حدیث نمبر: 1044
١٠٤٤ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن جابر بن زيد: سئل عن الرجل يعزب ومعه أهله؟ قال: يأتي أهله ويتيمم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید سے پوچھا گیا کہ ایک آدمی بیوی کے ساتھ ہے اور پانی سے دور ہے، وہ کیا کرے ؟ فرمایا بیوی سے صحبت کرے اور تیمم کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1044
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1044، ترقيم محمد عوامة 1043)
حدیث نمبر: 1045
١٠٤٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن عجلان عن أبي العوام قال: كنت جالسًا عند ابن عمر، فجاء أعرابي فقال له: إنا نعزب في الماشية عن الماء، فيحتاج ⦗٢١٠⦘ أحدنا إلى أن يصيب أهله؟ قال أما ابن عمر فلم يكن ليفعل، وأما أنت، فإذا وجدت الماء فاغتسل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العوام فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا کہ ہم قافلوں کی صورت میں پانی سے دور نکل جاتے ہیں۔ پھر ہم میں سے کسی کو بیوی سے جماع کی ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے تو ہم کیا کریں ؟ فرمایا ابن عمر رضی اللہ عنہما تو ایسا نہیں کرے گا البتہ جب تمہیں پانی ملے تو تم غسل کرلو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1045
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1045، ترقيم محمد عوامة 1044)
حدیث نمبر: 1046
١٠٤٦ - حدثنا وكيع عن علي بن صالح عن أبي عبد اللَّه الموصلي قال: وإن ابن عوف وابن عباس وابن عمر في سفر لا يجدون الماء، فواقع ابن عباس، فعابوا ذلك عليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد اللہ موصلی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عوف، ابن عباس رضی اللہ عنہما ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک سفر میں تھے اور انہیں پانی نہ مل رہا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنی روجہ سے جماع کیا تو اور حضرات نے انہیں ملامت کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1046
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1046، ترقيم محمد عوامة 1045)
حدیث نمبر: 1047
١٠٤٧ - حدثنا عباد بن العوام عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب والحسن (أنهما) (١) كانا لا يريان بأسًا إذا كان الرجل في سفر وليس معه ماء أن يصيب من أهله، ثم يتيمم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب اور حسن اس بات میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ آدمی سفر میں ہے اور اس کے پاس پانی بھی نہیں ہے، پھر وہ اپنی بیوی سے جماع کرے اور تیمم کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1047
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1047، ترقيم محمد عوامة 1046)
حدیث نمبر: 1048
١٠٤٨ - حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن الحسن أنه كان يقول: إذا كان الرجل في سفر، وبينه وبين الماء ليلتان أو ثلاث؛ فلا بأس أن يصيب من أهله ثم يتيمم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری فرماتے تھے کہ اگر کوئی آدمی سفر میں ہو اور اس کے اور پانی کے درمیان دو یا تین راتیں ہو تو اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ وہ بیوی سے جماع کر کے تیمم کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1048
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1048، ترقيم محمد عوامة 1047)
حدیث نمبر: 1049
١٠٤٩ - حدثنا حفص عن شيخ قال: وإن سالم يجامع على غير ماء ويتيمم إذا (كان) (١) الماء جامدا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم جماع کرنے کے بعد تیمم کرلیتے تھے اگر پانی جما ہوا ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1049
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1049، ترقيم محمد عوامة 1048)
حدیث نمبر: 1050
١٠٥٠ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن عطاء عن ابن عباس قال: إذا كان بأرض فلاة، وأصابه شبق يخاف فيه على نفسه، ومعه امرأته، فليقع عليها إن شاء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص ایسی جگہ ہو جہاں ویرانی ہو اور پانی نہ ہو پھر اسے اتنی شہوت لاحق ہوجائے جو ناقابل برداشت کی حد تک پہنچی ہوئی ہو اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہو تو اگر چاہے تو جماع کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1050
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1050، ترقيم محمد عوامة 1049)
حدیث نمبر: 1051
١٠٥١ - حدثنا هشيم عن حجاج عن عطاء: أن أبا ذر كان في سفر فوطيء أهله وليس عنده ماء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر نے ایک سفر میں اپنے گھر والوں سے جماع کیا حالانکہ ان کے پاس پانی نہ تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1051
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1051، ترقيم محمد عوامة 1050)
حدیث نمبر: 1052
١٠٥٢ - حدثنا وكيع عن حسن بن صالح عن عبد الكريم عن أبي عبيدة: أنه كره أن يجامع وهو لا يجد الماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی ایسا آدمی جماع کرے جس کے پاس پانی نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1052
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1052، ترقيم محمد عوامة 1051)
حدیث نمبر: 1053
١٠٥٣ - حدثنا عيسى بن يونس (عن الأعمش) (١) عن مجاهد قال: كنا مع ابن عباس في سفر ومعه جارية له، فتخلف، فأصاب منها، ثم أدركنا فقال: معكم ماء؟ قلنا: لا. قال: أما إني قد علمت (ذلك) (٢)، فتيمم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے، ان کے ساتھ ان کی ایک باندی بھی تھی۔ وہ ہم سے پیچھے رہ گئے اور اپنی باندی سے جماع کیا، پھر ہمارے ساتھ آ کر مل گئے اور فرمایا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ ہم نے کہا نہیں، فرمایا مجھے اس کا علم تھا۔ پھر تیمم فرما لیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1053
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وتقدم نحوه (١٠٤٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1053، ترقيم محمد عوامة 1052)