حدیث نمبر: 1015
١٠١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن هشام بن عروة عن فاطمة عن أسماء قالت: سئل النبي ﷺ عن دم الحيضة يكون في الثوب؟ فقال: " (أقرصيه) (١) بالماء، واغسليه، وصلي فيه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماء فرماتی ہیں کہ رسول اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر حیض کا خون عورت کے کپڑوں پر لگ جائے تو وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا کہ اسے پانی سے کھرچے، دھولے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 1016
١٠١٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن ثابت عن عدي بن دينار أن أم حصين سألت النبي ﷺ عن دم الحيض يكون في الثوب فقال: "حكيه بضلع واغسليه بماء وسدر، وصلي فيه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم فرماتے ہیں کہ ام حصین نے رسول اللہ سے سوال کیا کہ اگر حیض کا خون کپڑے پر لگ جائے تو کیا کیا جائے ؟ آپ نے فرمایا اس کو کھرچ لو، پھر پانی اور بیری سے دھو لو پھر اسی کپڑے میں نماز پڑھ لو۔
حدیث نمبر: 1017
١٠١٧ - حدثنا غندر عن أشعث عن الحسن عن أمه عن أم سلمة: أن امرأة سألتها عن الحائض تلبس الثوب تصلي فيه؟ فقالت أم سلمة: إن كان فيه دم، غسلت موضع الدم؛ وإلا صلت فيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ سے ایک عورت نے سوال کیا کہ اگر حائضہ نے کوئی کپڑے پہنے ہوں تو پاکی کے بعد ان میں نماز پڑھ سکتی ہے ؟ فرمایا اگر ان پر خون لگا ہو تو دھو لے ورنہ یونہی پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 1018
١٠١٨ - حدثنا الثقفي عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع: أن نساء عبد اللَّه بن عمر وأمهات أولاده كن يحضن، فإذا طهرن لم يغسلن ثيابهن التي كن يلبسن في حيضتهن، وكان ابن عمر يقول: إن رأيتن دمًا؛ فاغسلنه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بیویاں اور آپ کی ام ولد باندیاں حیض سے پاک ہونے کے بعد ان کپڑوں کو نہ دھوتیں جو حالت حیض میں پہن رکھے ہوتے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ان سے فرماتے تھے کہ اگر تم ان میں خون دیکھو تو انہیں دھو لو۔
حدیث نمبر: 1019
١٠١٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن حماد عن إبراهيم قال: (سألته) (١) عن دم الحيضة يكون في الثوب؟ فقال: قالت عائشة: إنما يكفي إحداكن أن تغسله بالماء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد نے ابراہیم سے کپڑے پر لگے حیض کے خون کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ عورتوں کے لیے اسے پانی سے دھونا کافی ہے۔
حدیث نمبر: 1020
١٠٢٠ - حدثنا عبد الأعلى (عن برد) (١) عن مكحول قال: (لا تغسل) (٢) المرأة ثياب حيضتها إن شاءت إلا أن ترى دمًا فتغسله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ اگر عورت اپنے حیض کے دوران پہنے ہوئے کپڑوں کو نہ بھی دھوئے تو کوئی حرج نہیں البتہ اگر خون لگا ہو تو دھو لے۔
حدیث نمبر: 1021
١٠٢١ - حدثنا أبو عامر العقدي عن أفلح عن إبراهيم قال: كانت الحائض تلبس ثيابها، ثم تطهير، فإن لم تر في ثوبها، نضحته، ثم صلت فيه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حائضہ اگر حیض کے دوران پہنے ہوئے کپڑوں میں کوئی نشان خون کا نہ دیکھے تو پاک ہونے کے بعد انہیں میں نماز پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 1022
١٠٢٢ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قال إنسان لعطاء: الحائض تطهير وفي ثوبها الدم (أ) (١) وليس يكفيها أن تغسل الدم (فقط) (٢) وتدع ثوبها بعد؟ قال: نعم).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا سے ایک آدمی نے کہا کہ اگر حائضہ پاک ہونے کے بعد کپڑوں پر خون کا نشان دیکھے تو کیا اس کے لیے اتنا کافی نہیں کہ خون کو دھو لے اور باقی کپڑوں کو چھوڑ دے ؟ فرمایا کافی ہے۔
حدیث نمبر: 1023
١٠٢٣ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن سعيد بن جبير: في الحائض يصيب ثوبها من دمها؟ قال: تغسله، ثم تلطخ مكانه بالورس والزعفران أو العنبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے پوچھا گیا کہ اگر حالت حیض کا خون کپڑوں پر لگ جائے تو کیا کیا جائے ؟ فرمایا عورت اسے دھو لے اور اس کی جگہ ورس، زعفران یا عنبر لگائے۔
حدیث نمبر: 1024
١٠٢٤ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم قال: تغسل المرأة ما أصاب ثيابها من دم الحيض، وليس النضح بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ عورت کے کپڑوں پر اگر حیض کا خون لگا ہو تو اسے دھوئے گی، پانی چھڑ کنا کچھ نہیں۔
حدیث نمبر: 1025
١٠٢٥ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة عن (معاذة) (١): أن امرأة سألت عائشة عن نضح الدم في الثوب؟ فقالت: اغسليه بالماء؛ فإن الماء له طهور (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کپڑے پر لگے ہوئے خون کے دھبوں پر پانی چھڑکنے کا پوچھا تو فرمایا اسے پانی سے دھوؤ کیوں کہ وہ پانی سے پاک ہوگا۔
حدیث نمبر: 1026
١٠٢٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن عمرو بن هرم قال: سئل جابر بن زيد عن المرأة الحائض يصيب ثوبها الدم، فتغسله، فيبقى فيه مثال الدم، أتصلي فيه؟ قال: (نعم).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی حیض کا خون کپڑوں پر لگنے کے بعد اسے دھو لے لیکن خون کا نشان باقی رہ جائے تو کیا وہ اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتی ہے ؟ فرمایا پڑھ سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 1027
١٠٢٧ - [حدثنا الفريابي عن ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن عطاء عن عائشة قالت: كان يكون لإحدانا الدرع فيه تحيض وفيه تجنب ثم ترى فيه الفطرة من دم حيضها فتقصعه بريقها] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے پوچھا کہ عورت حیض کے دوران پہنے ہوئے کپڑوں میں نماز پڑھ سکتی ہے ؟ فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ، البتہ اگر کچھ لگا ہو تو دھو لے۔
حدیث نمبر: 1028
١٠٢٨ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن عثمان بن الأسود عن مجاهد قال: المرأة تصلي في ثيابها التي تحيض فيها؛ إلا أن يصيب منها شيئًا، فتغسل موضع الدم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ عورت حیض کے دوران پہنے ہوئے کپڑوں میں نماز پڑھ سکتی ہے لیکن اگر خون لگا ہو تو اسے دھو لے۔
حدیث نمبر: 1029
١٠٢٩ - حدثنا وكيع عن الربيع عن الحسن قال: سألته عن المرأة تحيض في الثوب؟ قال: لا بأس به إلا أن ترى شيئًا فتغسله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے پوچھا کہ عورت حیض کے دوران پہنے ہوئے کپڑوں میں نماز پڑھ سکتی ہے ؟ فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ، البتہ اگر کچھ لگا ہو تو دھو لے۔
حدیث نمبر: 1030
١٠٣٠ - حدثنا سهل بن يوسف عن شعبة عن الحكم في ثوب الحائض قال: تغسل مكان الدم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم حائضہ کے کپڑوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ خون کی جگہ دھو لے۔