کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 934
٩٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن علي بن زيد بن جدعان عن سعيد بن المسيب عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا جلس بين الشعب الأربع، ثم ألزق الختان (بالختان) (١) فقد وجب الغسل" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب آدمی اپنی بیوی کے ساتھ جماع کے ارادے سے بیٹھے اور دونوں کی شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 935
٩٣٥ - حدثنا وكيع عن (عبيد اللَّه) (١) بن أبي زياد عن عطاء عن عائشة قالت: إذا جاوز الختان الختان، فقد وجب الغسل؛ فقد كان ذلك يكون مني ومن النبي ﷺ. (فنغتسل) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ اگر میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایسا ہوتا تو ہم غسل کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 936
٩٣٦ - حدثنا الفضل بن دكين عن هشام الدستوائي عن قتادة عن الحسن عن أبي رافع عن أبي هريرة عن النبي ﷺ أنه قال: "إذا جلس بين شعبها الأربع، ثم جهدها. فقد وجب الغسل" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب آدمی اپنی بیوی سے جماع کے ارادے سے بیٹھے اور زور لگائے تو غسل واجب ہوگیا۔
حدیث نمبر: 937
٩٣٧ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن عن أبي هريرة -قال يونس: (فلأ) (١) أعلمه إلا قد رفعه- قال: إذا جلس بين فروجها الأربع، ثم اجتهد، وجب الغسل (أنزل أو لم ينزل) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آدمی جب اپنی بیوی کے ساتھ جماع کے ارادے سے بیٹھ جائے اور زور لگائے تو غسل واجب ہوگیا۔ انزال ہو یا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 938
٩٣٨ - [حدثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم عن زر عن علي قال: إذا التقى الختانان؛ فقد وجب الغسل] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔
حدیث نمبر: 939
٩٣٩ - حدثنا وكيع عن حنظلة الجمحي عن سالم عن ابن عمر قال: قال عمر: إذا استخلط الرجل أهله؛ فقد وجب الغسل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی سے شرم گاہ ملا لے تو غسل واجب ہوگیا۔
حدیث نمبر: 940
٩٤٠ - حدثنا ابن علية عن داود (عن الشعبي) (١) عن مسروق قال: قالت عائشة: إذا التقى الختانان؛ فقد وجب الغسل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔
حدیث نمبر: 941
٩٤١ - حدثنا (ابن) (١) علية (عن أيوب) (٢) عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه وعن نافع قالا: قالت عائشة: إذا (خالف) (٣) الختان الختان؛ فقد وجب الغسل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔
حدیث نمبر: 942
٩٤٢ - حدثنا ابن علية عن حبيب بن شهاب عن أبيه قال: قال أبو هريرة: إذا غابت المدورة؛ فقد وجب الغسل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی کے آلہء تناسل کا سرا غائب ہوگیا تو غسل واجب ہوگیا۔
حدیث نمبر: 943
٩٤٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه قال: أما أنا فإذا، بلغت ذلك منها؛ اغتسلت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ اگر میری یہ کیفیت ہو تو میں غسل کروں گا۔
حدیث نمبر: 944
٩٤٤ - حدثنا وكيع عن مسعر عن معبد بن خالد عن علي، وعن غالب أبي الهذيل عن إبراهيم عن علي قال: إذا جاوز الختان الختان؛ فقد وجب الغسل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔
حدیث نمبر: 945
٩٤٥ - حدثنا (ابن إدريس) (١) عن الشيباني عن بكير بن الأخنس عن سعيد بن المسيب قال: (قال) (٢) عمر: لا أوتى برجل فعله -يعني: جامع، ثم لم ينزل، ولم يغتسل- إلا نهكته عقوبة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میرے پاس اگر کوئی ایسا آدمی لایا گیا جس نے یوں کیا (یعنی جماع کیا اور اسے انزال نہ ہوا لیکن اس نے غسل بھی نہ کیا) تو میں سزا دوں گا۔
حدیث نمبر: 946
٩٤٦ - حدثنا حفص عن حجاج عن أبي جعفر قال: اجتمع المهاجرون: أبو بكر وعمر وعثمان وعلي: أن ما أوجب الحدين: (الجلد) (١) والرجم؛ أوجب الغسل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ مہاجرین یعنی ابو بکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہ کا اس پر اجماع ہے کہ جس چیز سے کوڑے اور رجم لازم ہوتے ہیں اس سے غسل بھی واجب ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 947
٩٤٧ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن عكرمة قال: (سمعته) (١) يقول: يوجب القتل والرجم، ولا يوجب إناءً من ماء!.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ شرم گاہوں کے ملنے سے قتل اور رجم لازم ہوتے ہیں تو کیا پانی کا برتن لازم نہیں ہوں گے ؟
حدیث نمبر: 948
٩٤٨ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن الشعبي قال: قال شريح: (أيوجب) (١) أربعة، (آلاف) (٢)، ولا يوجب إناءً من ماء؟ يعني: في الذي يخالط، ثم لا ينزل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ یہ چیز چار ہزار تو لازم کرتی ہے اور پانی کا برتن لازم نہیں کرتی ؟ یعنی بیوی سے ایسا اختلاط جس میں انزال نہ ہو۔
حدیث نمبر: 949
٩٤٩ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن الشعبي قال: قال شريح: يوجب أربعة آلاف، ولا يوجب إناءً من ماء؟ يعني (١) الذي يخالط، ثم لا ينزل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ یہ چیز چار ہزار لازم کرتی ہے اور پانی کا برتن لازم نہیں کرتی۔ یعنی بیوی سے ایسا اختلاط جس میں انزال نہ ہو۔
حدیث نمبر: 950
٩٥٠ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن ابن سيرين قال: سألت عبيدة ما يوجب الغسل؟ قال: الخلاط والدفق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے پوچھا کہ غسل کس چیز سے واجب ہوتا ہے فرمایا شرم گاہوں کے ملنے سے اور منی کے نکلنے سے۔
حدیث نمبر: 951
٩٥١ - حدثنا ابن علية عن ابن عون وهشام عن محمد (عن عبيدة) (١): مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 952
٩٥٢ - [حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن معمر بن أبي (حبيبة) (١) مولى ابنة صفوان- عن (عبيد) (٢) بن رفاعة ابن رافع عن أبيه رفاعة بن رافع قال: بينا أنا عند عمر بن الخطاب (إذ) (٣) دخل عليه رجل، فقال يا أمير المؤمنين، هذا زيد بن ثابت يفتي الناس في المسجد برأيه في الغسل من الجنابة، فقال عمر: عليَّ به، فجاء زيد، (فلما رآه) (٤) عمر، قال: أي (عدو) (٥) نفسه؛ قد بلغت أن تفتي الناس برأيك؟ فقال: يا أمير المؤمنين باللَّه ما فعلت، (لكني) (٦) سمعت من أعمامي حديثا فحدثت به من (أبي) (٧) أيوب ومن أُبيّ ابن كعب ومن رفاعة (بن رافع) (٨) فأقبل عمر على رفاعة بن رافع، فقال: وقد كنتم تفعلون ذلك (إذا أصاب أحدكم من المرأة فأكسل لم يغتسل؟ فقال: قد كنا نفعل ذلك) (٩) على عهد رسول اللَّه ﷺ، فلم يأتنا من اللَّه فيه تحريم، ولم يكن من رسول اللَّه ﷺ فيه نهي. قال: (و) (١٠) رسول اللَّه ﷺ يعلم ذاك؟ قال: لا أدري، فأمر عمر بجمع المهاجرين والأنصار، فجمعوا، له فشاورهم فأشار الناس: أن لا ⦗١٩٠⦘ غسل في ذلك إلا ما كان من معاذ وعلي، فإنهما قالا: إذا جاوز الختان الختان، فقد وجب الغسل، فقال عمر: هذا وأنتم أصحاب بدر وقد اختلفتم، فمن بعدكم أشد اختلافا. (قال) (١١): فقال علي: يا أمير المؤمنين، إنه ليس أحد أعلم بهذا من شأن رسول اللَّه ﷺ من أزواجه، (فأرسل إلى حفصة فقالت: لا علم لي بهذا) (١٢)، فأرسل إلى عائشة، فقالت: إذا جاوز الختان الختان، فقد وجب الغسل، فقال عمر: لا أسمع برجل فعل ذلك؛ إلا أوجعته ضربا] (١٣) (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رفاعہ بن رافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت عمر کے پاس حاضر تھے کہ ایک شخص وہاں آیا۔ کسی آدمی نے کہا اے امیر المؤمنین ! یہ زید بن ثابت ہیں جو لوگوں کو غسل جنابت کے بارے میں اپنی رائے سے فتویٰ دیتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا انہیں میرے پاس لاؤ۔ وہ آئے تو حضرت عمر نے ان سے کہا ” اے اپنی جان کے دشمن ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم لوگوں کو اپنی رائے سے فتویٰ دیتے ہو ؟ “ انہوں نے کہا اے امیر المؤمنین ! خدا کی قسم میں نے ایسا نہیں کیا بلکہ میں نے اپنے ان محترم حضرات سے کچھ احادیث سنیں اور انہیں آگے بیان کردیا : حضرت ابو ایوب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت رفاعہ بن رافع۔ پھر حضرت عمر حضرت رفاعہ بن رافع کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے فرمایا کہ کیا تم ایسا کیا کرتے تھے کہ تم میں کوئی شخص عورت سے بغیر انزال کے جماع کرنے کے بعد غسل نہیں کرتا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایسا کرتے تھے لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حرمت یا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے کوئی نہی وارد نہیں ہوئی۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا علم تھا۔ حضرت رفاعہ نے فرمایا میں یہ نہیں جانتا۔ پھر حضرت عمر نے انصار و مہاجرین کو جمع فرمایا اور اس بارے میں ان سے مشورہ کیا سب لوگوں نے مشورہ دیا کہ اس میں غسل نہیں ہے۔ لیکن حضرت معاذ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم اصحاب بدر ہو کر اختلاف کرتے ہو تو بعد کے لوگ تم سے زیادہ اختلاف کریں گے ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے امیر المؤمنین ! میرے خیال میں اس بارے میں ازواج مطہرات سے زیادہ علم کسی کو نہیں ہوسکتا۔ اس بارے میں حضرت حفصہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے لا علمی کا اظہار کیا، جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا، اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر میں نے کسی آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ شرم گاہوں کے ملنے کے باوجود غسل سے اجتناب کرتا ہے تو میں اسے تکلیف دہ سزا دوں گا۔
حدیث نمبر: 953
٩٥٣ - حدثنا سهل بن يوسف عن شعبة عن سيف بن وهب عن أبي حرب (ابن) (١) أبي الأسود (الديلي) (٢) عن عميرة بن (يثربي) (٣) عن أُبيّ قال: إذا التقى ملتقاهما من وراء الختان؛ وجب الغسل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی فرماتے ہیں کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔
حدیث نمبر: 954
٩٥٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن (عبد اللَّه) (١) بن كعب عن محمود بن لبيد قال: سألت زيد بن ثابت عن الرجل يجامع ثم لا ينزل؟ قال: عليه الغسل. قال: قلت له: إن أُبيا كان لا يرى ذلك؟، فقال: إن أُبيا نزع عن ذلك قبل أن يموت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمود بن لبید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن ثابت سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو اپنی بیوی سے جماع کرے لیکن اسے انزال نہ ہو فرمایا اس پر غسل لازم ہے۔ میں نے کہا حضرت ابی تو اس کے قائل نہیں تھے۔ فرمایا انہوں نے وفات سے پہلے رجوع کرلیا تھا۔
حدیث نمبر: 955
٩٥٥ - حدثنا ابن عيينة عن ابن طاوس عن أبيه قال: سمعت ابن عباس يقول: أما أنا، فإذا خالطت أهلي؛ اغتسلت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر میں اپنے گھر والوں سے اختلاط کروں تو غسل کروں گا۔
حدیث نمبر: 956
٩٥٦ - حدثنا أبو أسامة عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: إذا جاوز الختان الختان؛ وجب الغسل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہے۔
حدیث نمبر: 957
٩٥٧ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سهل بن سعد (قال) (١): إنما كان قول الأنصار: الماء من الماء؛ أنها كانت رخصة في أول الإسلام، ثم كان الغسل بعد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سھل بن سعد فرماتے ہیں کہ انصار کا یہ کہنا کہ پانی کے بدلے پانی ہے۔ یعنی منی نکلے گی تو غسل واجب ہوگا۔ یہ بات اسلام کے ابتدائی زمانے میں تھی بعد میں محض دخول سے بھی غسل واجب ہوگیا۔
حدیث نمبر: 958
٩٥٨ - حدثنا ابن علية عن (شعبة) (١) عن (أبي عون) (٢) عن عبد الرحمن بن أبي ليلى: أنه سمعه من عمر -أو (عن) (٣) أخيه سمعه من عمر- قال: إذا جاوز الختان الختان؛ فقد وجب الغسل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہے۔
حدیث نمبر: 959
٩٥٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي عبد اللَّه الشامي قال: سمعت النعمان ابن بشير يقول في الرجل إذا أكسل، فلم ينزل قال: يغتسل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ آدمی اگر بیوی سے دخول کرے اور انزال نہ بھی ہو تو غسل واجب ہوگیا۔
حدیث نمبر: 960
٩٦٠ - حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي عن حنظلة قال: قيل للقاسم: إن الأنصار لا يغتسلون إلا (من) (١) الماء، فقال: لكنا نعوذ باللَّه أن نصنع ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنظلہ فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم سے پوچھا گیا کہ انصار منی کے خروج کے بغیر غسل کو لازم قرار نہیں دیتے، فرمایا ہم اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 961
٩٦١ - حدثنا (أبو معاوية) (١) عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا التقى (الختانان) (٢)، وتوارت الحشفة؛ فقد وجب الغسل" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب شرمگاہیں مل جائیں اور آلۂ تناسل کا کنارہ چھپ جائے تو غسل واجب ہوگیا۔