کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کے نزدیک منی کو کھرچنا ضروری ہے
حدیث نمبر: 922
٩٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: لقد رأيتني أجده في ثوب رسول اللَّه ﷺ، فأحته عنه؛ تعني: المني (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بعض اوقات میں منی کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑوں پر لگی ہوئی دیکھتی تو کھرچ دیتی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 922
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٢٨٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 922، ترقيم محمد عوامة 922)
حدیث نمبر: 923
٩٢٣ - حدثنا هشيم عن (حصين) (١) عن مصعب بن سعد عن سعد: أنه كان يفرك الجنابة من ثوبه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت سعد جنابت کے نشان کو کھرچ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 923
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسدد في المطالب (١٨٤) والشافعي في الأم ١/ ٤٨، وابن المنذر (٧٢٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 923، ترقيم محمد عوامة 923)
حدیث نمبر: 924
٩٢٤ - [حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد عن مصعب بن سعد عن سعد أنه كان يفرك الجنابة من ثوبه] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت سعد جنابت کے نشان کو کھرچ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 924
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 924، ترقيم محمد عوامة 924)
حدیث نمبر: 925
٩٢٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن (همام) (١) قال: نزل بعائشة ضيف، فأمرت له بملحفة صفراء، فاحتلم فيها، فاستحيا أن يرسل بها وفيها أثر الاحتلام، فغمسها في الماء، ثم أرسل بها، فقالت عائشة: لم أفسد علينا ثوبنا؟ إنما كان يكفيه أن يفركه بأصبعه، ربما فركته من ثوب رسول اللَّه ﷺ بأصبعي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ہمام ایک مرتبہ مہمان کے طور پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں حکم دیا کہ ایک زرد چادر ان کے لئے دی جائے۔ حضرت ھمام کو اس میں احتلام ہوگیا۔ انہیں شرم محسوس ہوئی کہ احتلام کے نشان کے ساتھ کپڑا واپس کیا جائے۔ چناچہ انہوں نے کپڑے کو پانی میں ڈبو کر واپس کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کپڑا دیکھا تو فرمایا انہوں نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کردیا ؟ ان کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ اسے کھرچ دیتے، میں بھی بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑوں سے اسے کھرچ دیا کرتی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 925
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الترمذي (١١٦) وابن ماجة (٥٣٨) وأحمد (٢٤١٥٨) وأخرجه بنحوه مسلم (٢٨٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 925، ترقيم محمد عوامة 925)
حدیث نمبر: 926
٩٢٦ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن مجاهد قال: بينما نحن عند عبد اللَّه ابن عمر بعد ما صلى؛ إذ جعل يدلك ثوبه، فقال: إني طلبت هذا البارحة فلم أجده قال مجاهد: ما أراه إلا منيا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھے۔ انہوں نے نماز پڑھنے کے بعد کپڑے کو رگڑنا شروع کردیا۔ پھر فرمایا کہ رات میں نے اسے تلاش کیا تھا لیکن یہ مجھے نہ ملی تھی۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں وہ منی ہی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 926
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال يزيد بن أبي زياد، أخرجه عبد الرزاق (٣٦٩٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 926، ترقيم محمد عوامة 926)
حدیث نمبر: 927
٩٢٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أبي مالك الأشجعي (سعد) (١) بن طارق قال: قلت للشعبي: (أصبحت) (٢) وفي ثوبي لمعة جنابة؟ قال: أعركه (ثم) (٣) انفضه قال، قلت: اغسله؟ قال: يزيده (نتنا) (٤)، قال أبو مالك: فظننت أنه لو كان رطبا، أمره بغسله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مالک اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے پوچھا کہ اگر صبح کے وقت میں منی کا نشان دیکھوں تو کیا کروں ؟ فرمایا اسے رگڑو اور جھاڑ دو ۔ میں نے عرض کیا کہ کیا میں اسے دھویا کروں۔ فرمایا کہ دھونے سے اس کی بدبو میں اضافہ ہوگا۔ حضرت ابو مالک کہتے ہیں کہ میرے خیال میں اگر وہ تر ہوتی تو اسکے دھونے کا حکم دیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 927
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 927، ترقيم محمد عوامة 927)
حدیث نمبر: 928
٩٢٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (حبيب) (١) عن سعيد بن جبير عن ابن عباس: في المني قال: امسحه بإذخرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ منی کو اذخر کے ساتھ صاف کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 928
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه عبد الرزاق (١٤٣٧) والبيهقي ٢/ ٤١٨ والطحاوي ١/ ٥٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 928، ترقيم محمد عوامة 928)
حدیث نمبر: 929
٩٢٩ - حدثنا هشيم قال: انا حجاج وابن أبي ليلى عن عطاء عن ابن عباس: في الجنابة تصيب الثوب قال: إنما هو كالنخامة أو النخاعة، أمطه عنك بخرقة أو بإذخرة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کپڑے پر لگی ہوئی منی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ تھوک کی طرح ہے اسے کپڑے یا اذخر سے صاف کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 929
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع حكمًا، ابن أبي ليلى ضعيف وحجاج مدلس، وانظر: [٩٢٨].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 929، ترقيم محمد عوامة 929)
حدیث نمبر: 930
٩٣٠ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن عبد الأعلى عن ابن الحنفية قال: (إن كان يابسا؛ فحته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن الحنفیہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ خشک ہو تو اسے کھرچ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 930
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 930، ترقيم محمد عوامة 930)
حدیث نمبر: 931
٩٣١ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن عثمان بن الأسود عن مجاهد: في الجنابة تصيب الثوب. قال: يغسلها، أو يمسحها بإذخرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد کپڑے پر لگی ہوئی منی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اسے دھو لو یا اذخر سے صاف کرلو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 931
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 931، ترقيم محمد عوامة 931)
حدیث نمبر: 932
٩٣٢ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن العباس بن عبد الرحمن (عن) (١) جبير ⦗١٨٥⦘ ابن نفير الحضرمي: أنه أرسل إلى عائشة، (فسألها) (٢) عن المرفقة يجامع عليها الرجل، أيقرأ عليها المصحف؟ قالت: وما يمنعك من ذلك؟ إن رأيته؟ فاغسله، وإن شئت فاحككه، وإن رابك فرشه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن نفیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی کو بھیج کر پوچھوایا کہ جس کپڑے پر آدمی بیوی سے جماع کرتا ہے اس پر قرآن مجید کی تلاوت کرسکتا ہے ؟ فرمایا اس میں کیا رکاوٹ ہے۔ اگر کوئی چیز ہے تو اسے دھو لو اور چاہو تو کھرچ لو اور اگر تمہیں شک ہو تو پانی چھڑک لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 932
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 932، ترقيم محمد عوامة 932)
حدیث نمبر: 933
٩٣٣ - حدثنا حسين بن علي عن جعفر بن برقان عن خالد بن (أبي) (١) (عزة) (٢) قال: سأل رجل عمر بن اط طاب، فقال: إني احتلمت على طنفسة فقال: إن كان رطبا؛ فاغسله، وإن كان يابسا، فاحككه، وإن خفي عليك؛ فارششه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک آدمی نے حضرت عمر سے سوال کیا کہ مجھے کپڑے پر احتلام ہوگیا اب میں کیا کروں ؟ فرمایا اگر وہ تر ہو تو دھو لو اگر خشک ہو تو کھرچ لو اور اگر نشان پوشیدہ ہوجائے تو اس پر پانی چھڑک لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 933
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 933، ترقيم محمد عوامة 933)