حدیث نمبر: 918
٩١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن عمرو بن ميمون قال: سألت سليمان بن يسار عن الثوب يصيبه المني أيغسله أو يغسل (الثوب) (١) كله؟ قال سليمان: قالت عائشة: كان النبي ﷺ يصيب (ثوبه) (٢)، فيغسله من ثوبه، ثم يخرج في ثوبه إلى الصلاة وأنا أرى أثر الغسل فيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سلیمان بن یسار سے پوچھا کہ اگر کپڑے کو منی لگ جائے تو منی کی جگہ کو دھونا ہے یا سارے کپڑے کو دھونا ہے۔ فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے پر اگر منی لگ جاتی تو کپڑے سے منی کی جگہ دھو لیتے تھے اور پھر انہی کپڑوں میں نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے، جب کہ مجھے کپڑوں میں دھونے کا نشان نظر آ رہا ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 919
٩١٩ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحكم: أن ابن مسعود كان يغسل أثر الاحتلام من ثوبه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود کپڑے سے احتلام کے نشان کو دھویا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 920
٩٢٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن إبراهيم قال: اغسل المني من ثوبك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کپڑے سے احتلام کے اثر کو دھو لو۔
حدیث نمبر: 921
٩٢١ - حدثنا وكيع عن هشام عن أبيه عن (زبيد) (١): أن ابن عمر غسل ما رأى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما منی کے نشان کو دھویا کرتے تھے۔