کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کا بیان جو کپڑوں میں جنابت کا شکار ہو اور اسے تلاش کے باوجود اس کا نشان نہ ملے
حدیث نمبر: 902
٩٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: إذا أجنب الرجل في ثوبه، فرأى فيه (١) أثرا؛ فليغسله، وإن لم ير فيه أثرا؛ فلينضحه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر آدمی اپنے کپڑوں میں جنابت کا شکار ہو تو اگر اسے کپڑوں پر کوئی نشان نظر آئے تو دھو لے اور اگر نشان نظر نہ آئے تو پانی چھڑک لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 902
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب، وأخرجه عبد الرزاق (١٤٥١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 902، ترقيم محمد عوامة 902)
حدیث نمبر: 903
٩٠٣ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق قال: قال رجل من الحي لأبي ميسرة: إني أجنب في ثوبي، فانظر فلا أرى شيئًا؟ قال: إذا اغتسلت؛ فتلفف به وأنت رطب؛ فإن ذلك يجزئك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابو میسرہ سے کہا کہ مجھے کپڑوں میں جنابت لاحق ہوتی ہے لیکن مجھے کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی ؟ فرمایا جب تم غسل کرو تو جسم کے گیلا ہونے کی حالت میں کپڑا پہن لو یہی تمہارے لئے کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 903
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 903، ترقيم محمد عوامة 903)
حدیث نمبر: 904
٩٠٤ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن طلحة (بن عبد اللَّه) (١) بن عوف عن أبي هريرة أنه كان يقول في الجنابة في الثوب: إن رأيت أثره؛ فاغسله، (وإن) (٢) علمت أن قد أصابه ثم خفي عليك؛ فاغسل الثوب، وإن شككت فلم تدر أصاب الثوب أم لا؛ فانضحه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ کپڑے میں جنابت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر اس کا نشان دیکھو تو دھو لو اور اگر تمہیں علم ہو کہ کپڑے کو ناپاکی لگی ہے یا نہیں لگی تو اس پر پانی چھڑک لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 904
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وأخرجه عبد الرزاق (١٤٤١) والبيهقي ٢/ ٤٠٦، والطحاوي ١/ ٥٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 904، ترقيم محمد عوامة 904)
حدیث نمبر: 905
٩٠٥ - حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن أيوب عن نافع عن ابن عمر قال: إن خفي (عليه) (١) مكانه، وعلم أنه قد أصابه؛ غسل الثوب كله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ علم ہو کہ ناپاکی کپڑے کو لگی ہے لیکن اس کی جگہ بھول جاؤ تو سارے کپڑے کو دھونا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 905
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 905، ترقيم محمد عوامة 905)
حدیث نمبر: 906
٩٠٦ - حدثنا وكيع عن هشام عن أبيه (عن زبيد بن الصلت) (١) أن عمر بن الخطاب غسل ما رأى، ونضح ما لم ير، وأعاد بعد ما أضحى متمكنا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر بن الصلت فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کو اگر ناپاکی نظر آتی تو دھو لیتے اور اگر نظر نہ آتی تو اس پر پانی چھڑک لیتے۔ پھر جب انہیں دھونے پر مکمل قدرت ہوجاتی تو دھو لیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 906
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الطحاوي ١/ ٥٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 906، ترقيم محمد عوامة 906)
حدیث نمبر: 907
٩٠٧ - حدثنا وكيع عن السري (١) بن يحيى عن عبد الكريم بن رشيد عن أنس في رجل أجنب في ثوبه، فلم ير أثره؛ قال: يغسله كله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس (اس شخص کے بارے میں جسے کپڑوں میں جنابت ہو لیکن نشان نظر نہ آئے) فرماتے ہیں کہ وہ سارا کپڑا دھوئے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 907
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 907، ترقيم محمد عوامة 907)
حدیث نمبر: 908
٩٠٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب -في (الجنابة) (١) في الثوب- قال: إن رأيته؛ فاغسله، وإن (ضللت) (٢)؛ فانضح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب کپڑے میں جنابت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر نشان نظر آئے تو دھو لو اور اگر نظر نہ آئے تو پانی چھڑک لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 908
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 908، ترقيم محمد عوامة 908)
حدیث نمبر: 909
٩٠٩ - حدثنا عبد الوهاب عن أيوب (عن) (١) محمد: في الرجل تصيب ثوبه الجنابة، ثم تخفى عليه؟ قال: اغسله أجمع.
مولانا محمد اویس سرور
محمد اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس کو کپڑوں میں جنابت لاحق ہوجائے پھر نشان گم ہوجائے تو وہ سارا کپڑا دھوئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 909
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 909، ترقيم محمد عوامة 909)
حدیث نمبر: 910
٩١٠ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم في الرجل يحتلم في الثوب، فلا يدري أين موضعه؟ قال: ينضح الثوب بالماء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس کے کپڑوں میں احتلام ہو اور نشان گم ہوجائے تو وہ کپڑے پر پانی چھڑک لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 910
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 910، ترقيم محمد عوامة 910)
حدیث نمبر: 911
٩١١ - حدثنا جرير عن عطاء بن السائب عن الشعبي قال: لا يزيده النضح إلا شرا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ پانی چھڑکنا گندگی میں اضافہ ہی کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 911
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 911، ترقيم محمد عوامة 911)
حدیث نمبر: 912
٩١٢ - حدثنا محبوب القواريري عن مالك بن حبيب عن سالم قال: سأله رجل فقال: إني احتلمت في ثوبي؟ قال: اغسله قال: خفي علي؟ قال: (رشه) (١) بالماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ مجھے کپڑوں میں احتلام ہوگیا ہے۔ فرمایا اسے دھو لو، اس نے کہا اس کی جگہ گم ہوگئی ہے۔ فرمایا اس پر پانی چھڑک لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 912
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 912، ترقيم محمد عوامة 912)
حدیث نمبر: 913
٩١٣ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال: (لا تنضحه) (١) بالماء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس پر پانی نہ چھڑکو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 913
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 913، ترقيم محمد عوامة 913)
حدیث نمبر: 914
٩١٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال حدثنا محمد بن إسحاق قال: حدثنا سعيد ابن عبيد بن السباق عن أبيه عن سهل بن حنيف قال: قلت يا رسول اللَّه، فكيف بما يصيب ثوبي منه؟ قال: "إنما يكفيك كف من ماء تنضح به (١) ثوبك حيث ترى أنه أصاب" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سھل بن حنیف فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر میرے کپڑے کو ناپاکی لگ جائے تو میں کیا کروں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے کپڑے پر جہاں تمہیں اس کا نشان دکھائی دے وہاں ایک ہتھیلی پانی ڈال دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 914
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ لحال ابن إسحاق، أخرجه أحمد (١٥٩٧٣) وابن ماجة (٥٠٦) والترمذي (١١٥) وأبو داود (٢١٠) وابن خزيمة (٢٩١) وابن حبان (١١٠٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 914، ترقيم محمد عوامة 914)
حدیث نمبر: 915
٩١٥ - حدثنا شريك عن سالم قال: قلت لسعيد بن جبير: إني أحتلم في ثوبي؟ قال: إن وجدته؟ فاغسله، وإلا فخل طريقه. قال: قلت: أطرحه وألبس ثوبا غيره؟ قال: إنك لكثير الملاحف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے پوچھا کہ مجھے اپنے کپڑوں میں احتلام ہوجاتا ہے تو میں کیا کروں۔ فرمایا اگر اس کا نشان مل جائے تو اسے دھو لو اور اگر نہ ملے تو اس کا راستہ چھوڑ دو ۔ میں نے کہا میں کپڑے تبدیل کرلیتا ہوں۔ فرمایا تم تو بہت زیادہ کپڑوں والے ہو !۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 915
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 915، ترقيم محمد عوامة 915)
حدیث نمبر: 916
٩١٦ - حدثنا ابن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن الحكم في الجنابة في الثوب قال: إن رأيته، فاغسله، وإن لم تره، فدعه ولا تنضحه بالماء؛ فإن النضح لا يزيده إلا قذرا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے کپڑوں میں جنابت کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ اگر اس کا نشان دیکھو تو اسے دھو لو اور اگر نہ دیکھو تو چھوڑ دو اور اس پر پانی نہ چھڑکو کیونکہ اس سے ناپاکی اور بڑھے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 916
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 916، ترقيم محمد عوامة 916)
حدیث نمبر: 917
٩١٧ - حدثنا مروان بن معاوية عن هلال بن ميمون قال: سألت عطاء بن يزيد الليثي عن الجنابة تكون في الثوب؟ قال: تنضحه بالماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہلال بن میمون فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء بن یزید سے کپڑے میں جنابت کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا اس پر پانی چھڑک دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 917
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 917، ترقيم محمد عوامة 917)