حدیث نمبر: 897
٨٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن أبي سنان (ضرار) (١) ⦗١٧٨⦘ عن محارب عن ابن عمر قال: من اغترف من ماء وهو جنب؛ فما بقي منه نجس، ولا تدخل الملائكة بيتا فيه بول (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے حالت جنابت میں برتن سے پانی لیا تو باقی پانی ناپاک ہوجائے گا۔ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں پیشاب ہو۔
حدیث نمبر: 898
٨٩٨ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن: في الجنب يدخل يده في الإناء قبل أن يغسلها، أو الرجل يقوم من منامه فيدخل يده في الإناء (قبل أن يغسلها) (١)، قال: إن شاء توضأ، وإن شاء أهراقه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن (اس جنبی کے بارے میں جو ہاتھ دھونے سے پہلے برتن میں اپنا ہاتھ داخل کرے یا اس شخص کے بارے میں جو سو کر اٹھنے کے بعد ہاتھ دھونے سے پہلے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کرے) فرماتے ہیں کہ اگر چاہے تو اس سے وضو کرلے اور اگر چاہے تو اسے گرا دے۔
حدیث نمبر: 899
٨٩٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الجريري عمن سمع سعيد بن المسيب يقول: لا بأس بأن يغمس الجنب يده في الإناء قبل أن يغسلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ جنبی اگر اپنا ہاتھ دھونے سے پہلے برتن میں داخل کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 900
٩٠٠ - حدثنا يحيى بن سعيد عن (الجعد) (١) عن عائشة ابنة سعد قالت: كان سعد يأمر جاريته فتناوله الطهور من الجرة، فتغمس يدها (فيها) (٢)، فيقال إنها حائض، فيقول: إن حيضتها ليست في يدها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بنت سعد فرماتی ہیں کہ حضرت سعد اپنی باندی کو پانی لانے کا حکم دیتے۔ وہ گھڑے سے پانی نکال کر وضو کا پانی لاتی تو اس میں ہاتھ ڈال دیتی تھی۔ حضرت سعد کو بتایا جاتا کہ یہ حائضہ ہے تو فرماتے اس کا حیض اس کے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 901
٩٠١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن عامر قال: كان أصحاب رسول اللَّه ﷺ يدخلون أيديهم في الإناء وهم جنب، والنساء وهن حيض؛ لا يرون بذلك بأسا يعني: قبل أن يغسلوها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ حالت جنابت میں اور خواتین حالت حیض میں ہاتھ دھونے سے پہلے برتن میں داخل کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔