حدیث نمبر: 813
٨١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن هشام عن الحسن قال: الجنب إذا ارتمس (في الماء) (١)، أجزأه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جنبی اگر پانی میں ڈبکی لگائے تو اس کے لئے کافی ہے۔
حدیث نمبر: 814
٨١٤ - حدثنا ابن علية عن داود عن الشعبي قال: (يجزئه) (١) رمسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جنبی کے لئے ڈبکی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 815
٨١٥ - حدثنا أبو خالد عن الأوزاعي عن الزهري قال: (يجزئه) (١) رمسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جنبی کے لئے ڈبکی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 816
٨١٦ - حدثنا وكيع عن مهدي بن ميمون عن (شعيب) (١) عن أبي العالية قال: يجزئ الجنب إذا غاص غوصة ولمس بيديه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ جنبی نے جب ڈبکی لگائی اور جسم پر ہاتھ مل لیا تو کافی ہے۔
حدیث نمبر: 817
٨١٧ - حدثنا أبو معاوية عن مغيرة بن مسلم قال: سألت عكرمة قال قلت له: الجنب (يغمس) (١) في الرنق قال: (يجزئه) (٢) من غسل الجنابة؛ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ سے پوچھا کہ اگر جنبی مٹیالے اور گدلے پانی میں ڈبکی لگا لے تو کیا اس کے لئے کافی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں کافی ہے۔
حدیث نمبر: 818
٨١٨ - حدثنا وكيع عن شريك عن مغيرة عن إبراهيم في الجنب (قال) (١): يرتمس في الماء؛ قال: (يجزئه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس جنبی کے بارے میں جو پانی میں ڈبکی لگائے فرماتے ہیں کہ یہ اس کے لئے کافی ہے۔
حدیث نمبر: 819
٨١٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن عبد الملك بن أبي سليمان عن عطاء قال: إن دخل النهر، فارتمس فيه أجزأه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا فرماتے ہیں کہ اگر جنبی نے دربا میں ایک ڈبکی لگائی تو یہ اس کے لئے کافی ہے۔
حدیث نمبر: 820
٨٢٠ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن سالم وعطاء وعامر (قالوا) (١): الجنب إذا ارتمس في الماء رمسة أجزأه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم، عطاء اور عامر فرماتے ہیں کہ جنبی کی ایک ڈبکی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 821
٨٢١ - حدثنا عمرو (عن) (١) الأصم الخزاعي عن ابن بديل بن ورقاء قال: سمعت القاسم يقول في الجنب يغتمس في الماء اغتماسة قال: إذا تدلك؛ فقد أجزأه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ جنبی پانی میں ڈبکی لگائے اور جسم کو مل لے تو اس کے لئے کافی ہے۔
حدیث نمبر: 822
٨٢٢ - حدثنا شريك عن جابر عن عامر قال: يجزئ الجنب رمسة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ جنبی کیلئے ایک ڈبکی کافی ہے۔