حدیث نمبر: 789
٧٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن العلاء بن المسيب عن حماد عن إبراهيم عن ابن عباس: في الرجل يغتسل من الجنابة، فينتضح في إنائه من غسله فقال: لا بأس به (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما دورانِ غسل جنابت برتن میں گرنے والے چھینٹوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 790
٧٩٠ - حدثنا أزهر (عن) (١) ابن عون قال قلت: لمحمد: أغتسل فينتضح في إنائي من غسلي؟ قال. وهل تجد من ذلك بدا؟.
مولانا محمد اویس سرور
ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے محمد سے کہا کہ غسل کرتے ہوئے میرے غسل کے چھینٹے برتن میں گرجاتے ہیں۔ فرمایا تو اس میں کیا حرج ہے !۔
حدیث نمبر: 791
٧٩١ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم: سئل عن الرجل يغتسل من الجنابة، فيقطر في إنائه من غسله، فقال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے دوران غسل جنابت برتن میں گرنے والے چھینٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 792
٧٩٢ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: سئل عن الرجل (يغتسل) (١) فينتضح في إنائه من غسله، قال: يقدر أن يمتنع من هذا؟.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے دوران غسل جنابت برتن میں گرنے والے چھینٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ کیا وہ اس کے روکنے پر قادر ہے۔
حدیث نمبر: 793
٧٩٣ - حدثنا وكيع عن معمر بن موسى عن أبي جعفر، (و) (١) عن إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر، أنه لم ير بأسا أن ينتضح من غسله في إنائه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر دوران غسل برتن میں گرنے والے چھینٹوں میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 794
٧٩٤ - حدثنا خالد بن حيان عن جعفر بن برقان قال: قلت للزهري: أغتسل من الجنابة، فينتضح من غسلي في إنائي، فقال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ میں نے زہری سے پوچھا کہ میں غسل جنابت کرتا ہوں تو میرے غسل کے چھینٹے برتن میں گرجاتے ہیں۔ فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 795
٧٩٥ - حدثنا حماد بن خالد عن الحسام بن (مصك) (١) عن أبي معشر عن (إبراهيم) (٢) قال: سأل (رجل) (٣) (عن أبي هريرة -فيه (حبشية) (٤) - قال: اغتسل، فيرجع من جسمي في إنائي؟ (قال) (٥): لا بأس به (٦).
مولانا محمد اویس سرور
ایک آدمی نے حضرت ابوہریرہ سے پوچھا کہ میں نے زہری سے پوچھا کہ میں غسل جنابت کرتا ہوں تو میرے غسل کے چھینٹے برتن میں گرجاتے ہیں۔ فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 796
٧٩٦ - أخبرنا وكيع عن حماد بن زيد عن يحيى بن عتيق قال: سألت الحسن وابن سيرين عن الرجل يغتسل، فينتضح (من غسله) (١) (في إنائه) (٢)، فقال الحسن: ومن يملك انتشار الماء. وقال ابن سيرين: إنا لنرجوا من رحمة ربنا ما هو أوسع من هذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عتیق کہتے ہیں کہ میں نے حسن اور حضرت ابن سیرین سے پوچھا کہ غسل کرتے ہوئے آدمی کے جسم کے چھینٹے برتن میں گرجاتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے ؟ حسن نے فرمایا پانی کے انتشار پر کون قدرت رکھتا ہے۔ حضرت ابن سیرین نے فرمایا ہم اپنے رب کی وسیع رحمت کی امید رکھتے ہیں۔