کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک غسل جنابت کو مؤخر کرنے میں کوئی حرج نہیں
حدیث نمبر: 684
٦٨٤ - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال: حدثنا ابن علية عن برد بن سنان عن عبادة بن نسي (١) عن غضيف بن الحارث قال: أتيت عائشة، (فقلت) (٢): أرأيت رسول اللَّه ﷺ في أول الليل كان يغتسل من الجنابة، أم في آخره؟ فقالت: ربما اغتسل في أول الليل، وربما اغتسل في آخره (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے ابتدائی حصہ میں غسل جنابت فرماتے یا رات کے آخری حصہ میں ؟ انہوں نے فرمایا کہ کبھی ابتدائی حصہ میں اور کبھی آخری حصہ میں۔
حدیث نمبر: 685
٦٨٥ - حدثنا الفضل بن دكين قال حدثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم (عن) (١) (أبي معمر) (٢) عن حذيفة (قال) (٣): (ثومة) (٤) قبل الغسل أوعب لخروجه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غسل سے پہلے سونا زیادہ مناسب ہے۔
حدیث نمبر: 686
٦٨٦ - حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن طلحة بن مصرف قال: قال حذيفة: نومة بعد الجنابة أوعب للغسل (١).
مولانا محمد اویس سرور
غسل کے بعد سونا زیادہ مناسب ہے۔
حدیث نمبر: 687
٦٨٧ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الأسود عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ إذا كانت له حاجة إلى أهله قضاها، ثم نام كهيئته لا يمس ماءًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی کسی زوجہ سے حاجت ہوتی تو آپ اس حاجت کو پورا فرماتے اور پھر پانی کو چھوئے بغیر سو جاتے۔
حدیث نمبر: 688
٦٨٨ - حدثنا شريك عن إبراهيم عن مجاهد عن ابن عباس قال: إذا جامع الرجل، ثم أراد أن يعود؛ فلا بأس أن يؤخر الغسل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی سے جماع کرے اور دوبارہ کرنا چاہے تو غسل کو مؤخر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔