حدیث نمبر: 613
٦١٣ - (حدثنا أبو بكر) (١) قال: حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن يحيى بن وثاب قال: سئل ابن عباس (عن رجل) (٢) خرج إلى الصلاة، فوطأ على عذرة؟ قال: إن كانت رطبة؛ غسل ما أصابه وإن كانت يابسة؛ لم تضره (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو نماز کے لئے نکلے اور راستہ میں گندگی پر سے اس کا گذر ہو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ” اگر گندگی تر ہے تو اسے دھو لے اور اگر خشک ہے تو کوئی بات نہیں۔
حدیث نمبر: 614
٦١٤ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم أنه قال في الرجل يطأ على العذرة وهو طاهر قال: إن كان رطبا؛ غسل ما أصابه، وإن كان يابسا، فلا شيء عليه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم (ایسے آدمی کے بارے میں جس کا گذر ناپاک جگہ سے ہو) فرماتے ہیں کہ اگر گیلی ہے تو دھو لے اور اگر خشک ہے تو کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 615
٦١٥ - حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن ابن جريج عن عطاء قال: إن كان رطبا غسله، وإن كان يابسًا فلا يضره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ناپاکی اگر گیلی تھی تو دھو لے اور اگر خشک ہے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
حدیث نمبر: 616
٦١٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن التيمي عن الحسن قال في الرجل يطأ على العذرة الرطبة قال: يغسله ولا يتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حسن (گیلی ناپاکی کے اوپر سے گذرنے والے کے بارے میں) فرماتے ہیں کہ صرف اسے دھو لے، وضو کی ضرورت نہیں۔
حدیث نمبر: 617
٦١٧ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر فيمن وطئ على جيفة أو حيضة أو عذرة يابسة، فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر (مردار، حیض کے کپڑے یا خشک ناپاکی پر سے گذرنے والے کے بارے میں) فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔
حدیث نمبر: 618
٦١٨ - حدثنا وكيع عن محمد بن طلحة عن زبيد عن سعيد بن جبير: قال: لا بأس بطين يخالطه البول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ اس مٹی پر سے گذرنے میں کوئی حرج نہیں جس کے ساتھ پیشاب مل گیا ہو۔
حدیث نمبر: 619
٦١٩ - حدثنا عبيدة بن حميد عن (سنان) (١) بن حبيب عن أبي معشر (٢) عن إبراهيم في الرجل يطأ على العذرة، وهو يريد المسجد قال: قال إبراهيم: لا يعيد الوضوء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم (ایسے شخص کے بارے میں جو مسجد میں جاتے ہوئے گندگی پر سے گذر جائے) فرماتے ہیں کہ وہ وضو کا اعادہ نہ کرے۔