حدیث نمبر: 609
٦٠٩ - حدثنا وكيع عن العمري عن نافع عن ابن عمر: أنه كان ربما بلغ بالوضوء إبطه في الصيف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ گرمیوں میں بعض اوقات حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بغل تک بازوؤں کو دھو لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 610
٦١٠ - حدثنا وكيع عن عقبة بن أبي صالح عن إبراهيم: أنه كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے اسے ناپسند قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 611
٦١١ - حدثنا ابن فضيل عن عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة قال: دخلت مع أبي هريرة دار مروان، فدعا بوضوء، فتوضأ، فلما غسل ذراعيه جاوز المرفقين، فلما غسل رجليه جاوز الكعبين إلى الساقين. فقلت: ما هذا؟ قال: هذا مبلغ الحلية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زرعہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ کے ساتھ مروان کے گھر میں داخل ہوا، حضرت ابوہریرہ نے پانی کا برتن منگوایا، جب انہوں نے ہاتھ دھوئے تو کہنیوں سے آگے تک دھوئے، پھر جب پاؤں دھوئے تو پنڈلیوں تک دھوئے۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ قیامت کے دن زیورات کے اضافے کے لئے ہے۔
حدیث نمبر: 612
٦١٢ - (حدثنا علي بن مسهر) (١) عن يحيى بن أيوب البجلي عن أبي زرعة قال: دخلت على أبي هريرة، فتوضأ إلى منكبيه وإلى ركبتيه. فقلت له. ألا تكتفي بما ⦗١٢٣⦘ فرض اللَّه عليك من هذا؟ قال: بلى، ولكني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "مبلغ الحلية مبلغ الوضوء" فأحببت أن يزيدني في حليتي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زرعہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے وضو کے دوران ہاتھوں کو کندھوں تک اور پاؤں کو گھٹنوں تک دھویا۔ میں نے کہا کہ آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کی فرض کردہ مقدار کافی نہیں ؟ فرمانے لگے کیوں نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی کے زیورات جنت میں وہاں تک پہنچیں گے جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے۔ پس میری چاہت ہے کہ میرے زیور میں اضافہ ہو۔