حدیث نمبر: 570
٥٧٠ - حدثنا ابن علية عن عبيد اللَّه بن العيزار عن طلق بن حبيب قال: رأى عمر بن الخطاب رجلا حك إبطه أو مسه، فقال: قم فاغسل (يديك) (١) أو تطهر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک مرتبہ حضرت عمر نے ایک آدمی کو دیکھا جو بغل میں خارش کر رہا تھا، آپ نے اس سے فرمایا اٹھو اور ہاتھ دھوؤ یا وضو کرو۔
حدیث نمبر: 571
٥٧١ - حدثنا ابن علية عن ليث عن مجاهد قال: قال عمر: من نقى أنفه، أو حك إبطه، توضأ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں جو اپنا ناک صاف کرے یا بغل میں خارش کرے، اسے چاہئے کہ وضو کرے۔
حدیث نمبر: 572
٥٧٢ - حدثنا (خلف) (١) بن خليفة عن ليث عن مجاهد عن ابن عباس قال: ليس عليه وضوء في نتف الإبط (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بغل کے بال اکھیڑنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
حدیث نمبر: 573
٥٧٣ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن. أنه سئل عن الرجل يمس إبطه أو ينتفه؟ فلم ير به بأسا إلا أن يدميه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بغل کو ہاتھ لگائے یا بال اکھیڑے تو انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں البتہ اگر خون نکلا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
حدیث نمبر: 574
٥٧٤ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن محمد قال: هؤلاء يقولون: من مس إبطه أعاد الوضوء، وأنا لا أقول ذلك ولا أدري ما هذا.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ بغل کو ہاتھ لگانے والا دوبارہ وضو کرے گا، میں نہ یہ کہتا ہوں اور نہ اس بات کو جانتا ہوں۔
حدیث نمبر: 575
٥٧٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن عبد اللَّه بن (عمرو) (١): أنه كان يغتسل من نتف الإبط (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بغل کے بال اکھیڑنے کے بعد غسل فرماتے تھے۔