کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جس چیز کو آگ نے بدل دیا ہو اس سے وضو کا بیان
حدیث نمبر: 553
٥٥٣ - حدثنا ابن علية عن معمر عن الزهري عن عمر بن عبد العريز عن إبراهيم بن عبد اللَّه بن قارظ: أن أبا هريرة أكل أثوار أقط، فقام فتوضأ، فقال: أتدرون لم توضأت؟ إني أكلت أثوار أقط؛ سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "توضؤوا مما مست النار" قال: فكان عمر يتوضأ من السكر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ نے مکھن کے ٹکڑے کھائے، پھر وضو فرمایا اس کے بعد آپ نے پوچھا ” کیا تم جانتے ہو میں نے وضو کیوں کیا ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم کوئی ایسی چیز کھاؤ جسے آگ نے چھوا ہو تو وضو کرو۔ حضرت عمر شکر کھا کر وضو کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 553
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد ٢/ ٤٢٧ والنسائي ١/ ١٠٥، وابن حبان (١١٤٦) وأخرجه مسلم (٣٥٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 553، ترقيم محمد عوامة 553)
حدیث نمبر: 554
٥٥٤ - حدثنا (ابن) (١) نمير قال حدثنا عثمان بن حكيم عن الزهري عن أبي سفيان بن (سعيد) (٢) بن المغيرة بن الأخنس: أنه دخل على خالته أم حبيبة، فسقته شربة من سويق، ثم قالت: يا (ابن أختي) (٣) (توضأ) (٤)؛ فإني سمعت ⦗١١٣⦘ رسول اللَّه ﷺ يقول: "توضؤوا مما مست النار" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سفیان بن مغیرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام حبیبہ کے پاس گیا، انہوں نے مجھے ستو کا شربت پلایا پھر فرمایا ” اے بھانجے ! وضو کرلو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اسے استعمال کرنے کے بعد وضو کرلو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 554
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 554، ترقيم محمد عوامة 554)
حدیث نمبر: 555
٥٥٥ - حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثنا عبد الرحمن بن عبد العزيز الأنصاري قال: حدثني الزهري قال. حدثني أبو سلمة بن عبده الرحمن بن عوف قال: أخبرني أبو سفيان بن سعيد الأخنسي: قال دخلت على خالتي أم حبيبة، فسقتني سويقا، ثم قالت: (يا ابن أختي) (١) توضأ، فإني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "توضؤوا مما مست النار" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سفیان بن سعید اخنسی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام حبیبہ کے پاس گیا، انہوں نے مجھے ستو کا شربت پلایا پھر فرمایا ” اے بھانجے ! وضو کرلو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اسے استعمال کرنے کے بعد وضو کرلو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 555
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 555، ترقيم محمد عوامة 555)
حدیث نمبر: 556
٥٥٦ - حدثنا عفان قال: (نا) (١) همام قال: قيل لمطر الوراق -وأنا عنده- عمن أخذ الحسن أنه كان يتوضأ مما مست النار؛ فقال: أخذه عن أنس، وأخذه أنس عن أبي طلحة (٢) و (أخذه) (٣) أبو طلحة عن النبي ﷺ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایک مرتبہ مطر الوراق سے پوچھا گیا کہ حسن بصری نے یہ روایت کس سے لی ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو کیا جائے ؟ انہوں نے فرمایا انہوں نے یہ روایت حضرت انس سے، انہوں نے حضرت ابو طلحہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 556
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مطر، أخرجه الطحاوي ١/ ٦٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 556، ترقيم محمد عوامة 556)
حدیث نمبر: 557
٥٥٧ - حدثنا ابن علية عن معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة أنها قالت: (توضؤوا مما مست النار) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اسے استعمال کرنے کے بعد وضو کرلو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 557
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 557، ترقيم محمد عوامة 557)
حدیث نمبر: 558
٥٥٨ - حدثنا ابن علية عن معمر عن الزهري عن خارجة (عن) (١) زيد بن ثابت أنه قال: توضؤوا مما مست النار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اسے استعمال کرنے کے بعد وضو کرلو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 558
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه ابن المنذر ١/ ٢١٤ (١٠٩) وعبد الرزاق (٦٦٥)، والطبراني (٤٨٣٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 558، ترقيم محمد عوامة 558)
حدیث نمبر: 559
٥٥٩ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن: أن أبا موسى كان يتوضأ مما غيرت النار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ آگ پر پکی ہوئی چیز استعمال کرنے کے بعد وضو کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 559
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 559، ترقيم محمد عوامة 559)
حدیث نمبر: 560
٥٦٠ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة قال: أتيت أنس بن مالك، فلم أجده، فقعدت أنتظره، فجاء وهو مغضب، فقال: كنت عند هذا -يعني: الحجاج- فأكلوا، ثم قاموا، فصلوا ولم يتوضؤوا. فقلت: أو ما كنتم تفعلون هذا يا أبا حمزة، قال: ما كنا نفعله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت انس کی خدمت میں حاضر ہوا وہ موجود نہ تھے، میں بیٹھ کر ان کا انتظار کرنے لگا۔ جب وہ واپس آئے تو انتہائی غصہ میں تھے، فرمانے لگے میں اس (حجاج) کے پاس سے آ رہا ہوں، لوگوں نے کھانا کھایا اور بغیر وضو کئے اٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ میں نے حضرت انس سے پوچھا کہ ” اے ابو حمزہ ! کیا آپ ایسا نہ کیا کرتے تھے “۔ انہوں نے فرمایا ” ہم ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 560
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه عبد الرزاق (٦٧٠) وابن منيع كما في المطالب (١٢٥) وابن المنذر ١/ ٢١٥ (١١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 560، ترقيم محمد عوامة 560)
حدیث نمبر: 561
٥٦١ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع عن ابن عمر: أنه شرب سويقا، فتوضأ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ستو کا شربت پیا، پھر وضو فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 561
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وانظر (٥٣٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 561، ترقيم محمد عوامة 561)
حدیث نمبر: 562
٥٦٢ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه: أن أنسا وأبا طلحة وأبا موسى وابن عمر وزيد بن ثابت وامرأتين من أزواج النبي ﷺ كانوا يتوضؤون مما غيرت النار (١).
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان فرماتے ہیں کہ حضرت انس، ابو طلحہ، ابو موسیٰ ، ابن عمر رضی اللہ عنہما ، زید بن ثابت اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو ازواج آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 562
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وانظر (٥٥٦، ٥٥٨، ٥٥٩، ٥٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 562، ترقيم محمد عوامة 562)
حدیث نمبر: 563
٥٦٣ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن أبي قلابة: أنه كان يأمر بالوضوء مما غيرت النار، وسقاهم مرة نبيذا (فأتاهم) (١) بوضوء، فتوضؤوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو کا حکم دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے لوگوں کو نبیذ پلائی پھر وضو کا پانی منگوا کر انہیں وضو کرایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 563
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 563، ترقيم محمد عوامة 563)
حدیث نمبر: 564
٥٦٤ - حدثنا وكيع عن الحكم بن عطية عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس قال: توضؤوا من السكر، فإن له (ثفلًا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں شکر کھا کر وضو کرو کیونکہ اس میں تلچھٹ ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 564
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 564، ترقيم محمد عوامة 564)
حدیث نمبر: 565
٥٦٥ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري: أن عائشة وأبا سلمة و (عمر) (١) بن عبد العزيز كانوا يتوضؤون مما مست النار، وكان الزهري يتوضأ منه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، ابو سلمہ اور عمر بن عبد العزیز آگ پر پکی چیز کھا کر وضو کیا کرتے تھے۔ حضرت زہری بھی یونہی کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 565
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 565، ترقيم محمد عوامة 565)
حدیث نمبر: 566
٥٦٦ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة عن رجل من هذيل -أراه قد ذكر أن له صحبة- قال: يتوضأ مما غيرت النار (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور صحابی فرماتے ہیں کہ آگ پر پکی چیز کھا کر وضو کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 566
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 566، ترقيم محمد عوامة 566)
حدیث نمبر: 567
٥٦٧ - حدثنا وكيع عن عمر (بن شيبة) (١) عن عبد اللَّه بن إبراهيم قال: كنت مع أبي هريرة، فتوضأ فوق المسجد. فقلت له: من أي شيء توضأت؟ فقال: أكلت ثوري أقط (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابراہیم کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ کے ساتھ تھا، انہوں نے مسجد کے اوپر وضو فرمایا۔ میں نے ان سے وضو کا سبب پوچھا تو فرمایا کہ میں نے مکھن کے ٹکڑے کھائے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 567
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أخرجه عبد الرزاق (٦٧٠) والطحاوي ١/ ٦٣ والبيهقي ١/ ١٥٥ وأحمد ٢/ ٤٢٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 567، ترقيم محمد عوامة 567)
حدیث نمبر: 568
٥٦٨ - حدثنا وكيع عن قرة بن خالد عن الحسن قال: توضأ مما غيرت النار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے استعمال کے بعد وضو کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 568
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 568، ترقيم محمد عوامة 568)
حدیث نمبر: 569
٥٦٩ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سمعت أبا إسحاق يحدث أنه سمع (أبا السفر) (١) يحدث عن عبد اللَّه بن عمرو قال: كانوا عند المغيرة بن شعبة، فأكلوا لحما وثريدا، وخرجوا من عنده، فجعلوا يصلون ولا يتوضؤون، فقال أبو مسعود: انظر يصلون ولا يتوضؤون! (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگ حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پاس تھے۔ لوگوں نے گوشت اور ثرید کھایا، پھر باہر گئے اور بغیر وضو کے نماز شروع کردی۔ حضرت ابو مسعود فرمانے لگے ” انہیں دیکھو ! بغیر وضو کے نماز پڑھ رہے ہیں۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 569
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 569، ترقيم محمد عوامة 569)