حدیث نمبر: 525
٥٢٥ - حدثنا هشيم (قال: أخبرنا) (١) علي بن (زيد) (٢) قال حدثنا محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد اللَّه قال: أكلت مع رسول اللَّه ﷺ ومع أبي بكر وعمر وعثمان خبزًا ولحما فصلوا، ولم يتوضؤوا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا، ان سب حضرات نے کھانے کے بعد وضو کئے بغیر نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 526
٥٢٦ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: أكل النبي ﷺ كتفا، ثم مسح يده. بمسح كان تحته ثم قام فصلى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شانے کا گوشت کھایا پھر ایک کپڑے اپنے ہاتھوں کو صاف کرلیا اور وضو کئے بغیر نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 527
٥٢٧ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن وهب بن كيسان عن محمد بن عمرو (ابن) (١) عطاء عن ابن عباس: أن رسول اللَّه ﷺ أكل من عظم أو تعرق من ضلع، ثم صلى، ولم يتوضأ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہڈی کے ساتھ لگا ہوا گوشت کھایا پھر وضو کئے بغیر نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 528
٥٢٨ - حدثنا هشيم (١) قال: أخبرنا (٢) جابر الجعفي عن أبي جعفر عن ابن ⦗١٠٧⦘ عباس: أن رسول اللَّه ﷺ خرج وهو يريد الصلاة، فمر بقدر تفور، فأخذ منها عرقا أو كتفا، فأكله، ثم مضمض، ولم يتوضأ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے نکلے، آپ نے دیکھا کہ ایک ہانڈی چولہے پر پک رہی ہے، آپ نے اس میں سے شانے کا گوشت نکال کر کھالیا، پھر صرف کلی کی، وضو نہیں فرمایا۔
حدیث نمبر: 529
٥٢٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان قال: حدثنا أبو عون عن عبد اللَّه بن شداد قال: سمعت أبا هريرة يحدث مروان: قال توضأ مما مست النار، فأرسل مروان إلى أم سلمة، (يسألها) (١) فقالت: نهش رسول اللَّه ﷺ عندي كتفا، ثم خرج إلى الصلاة ولم يمس ماء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے مروان کو یہ حدیث سنائی کہ آگ پر پکائی گئی چیز کھانے کے بعد وضو کرو۔ مروان نے حضرت ام سلمہ کے پاس پیغام بھیج کر یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا ” ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے گھر میں شانے کا گوشت کھایا پھر آپ نماز کے لئے تشریف لے گئے اور پانی کو چھوا تک نہیں “۔
حدیث نمبر: 530
٥٣٠ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر (١) عن أبيه (٢) عن علي بن حسين -أو حسين بن علي- عن زينب بنت أم سلمة قالت: أتي رسول اللَّه ﷺ بكتف شاة، فأكل منه، فصلى ولم يمس ماء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زینب بنت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بکری کا شانہ لایا گیا، آپ نے اس میں سے کھایا اور پانی کو چھوئے بغیر نماز ادا فرمائی۔
حدیث نمبر: 531
٥٣١ - حدثنا علي بن مسهر عن يحيى بن سعيد عن بشير (١) بن (يسار) (٢) قال: أخبرني سويد بن النعمان الأنصاري: أنهم خرجوا مع رسول اللَّه ﷺ إلى خيبر (٣) حتى إذا كانوا بالصهباء، صلى العصر، ثم دعا بأطعمة (٤) ولم يؤت إلا بسويق، فأكلوا وشربوا، ثم دعا بماء فمضمض، ثم قام فصلى بنا المغرب (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن نعمان فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے، جب ہم مقام صھباء پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی پھر کھانا منگوایا۔ اس موقع پر صرف ستو لائے گئے، لوگوں نے انہیں کھایا اور پانی پی لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوا کر کلی فرمائی، پھر مغرب کی نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 532
٥٣٢ - حدثنا ابن نمير عن يحيى بن سعيد عن بشير (١) بن يسار (٢) عن سويد ابن النعمان (عن النبي ﷺ) (٣): بمثله، وزاد فيه: (و) (٤) مضمضنا معه، وما مس ماء (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید کی ایک روایت میں یہ اضافہ ہے ” ہم نے کلی کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی کو چھوا تک نہیں “۔
حدیث نمبر: 533
٥٣٣ - حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثنا سليمان بن بلال قال: حدثني عمرو ابن أبي عمرو عن (حنين) (١) بن أبي المغيرة عن أبي رافع قال: رأيت النبي ﷺ أكل كتفا، ثم قام إلى الصلاة، ولم يمس ماء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ شانے کا گوشت کھایا پھر نماز کے لئے اٹھ پڑے اور پانی کو چھوا تک نہیں۔
حدیث نمبر: 534
٥٣٤ - حدثنا الفضل بن دكين عن إبراهيم (١) بن إسماعيل عن الزهري عن جعفر بن عمرو بن أمية الضمري عن أبيه: أن النبي ﷺ احتز من كتف شاة، ثم صلى، ولم يتوضأ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن امیہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کے شانے کا گوشت کھایا پھر بغیر وضو کئے نماز ادا فرمائی۔
حدیث نمبر: 535
٥٣٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا عبيد اللَّه بن إياد قال، حدثني إياد عن سويد ابن سرحان عن المغيرة بن شعبة: أن رسول اللَّه ﷺ أكل طعاما، ثم أقيمت الصلاة وقد كان توضأ قبل ذلك، فأتيته بماء ليتوضأ، فانتهرني وقال: "وراءك ولو فعلت ذلك فعل الناس بعدي" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھایا، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، آپ پہلے سے با وضو تھے۔ میں آپ کے پاس وضو کے لئے پانی لایا تو آپ نے مجھے ڈانٹ دیا اور فرمایا ” پیچھے رہو، اگر میں نے وضو کیا تو میرے بعد لوگ بھی وضو کرنے لگیں گے۔
حدیث نمبر: 536
٥٣٦ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا عمرو بن دينار وأبو الزبير عن جابر بن عبد اللَّه قال: أكلت مع أبي بكر خبزا ولحما، فصلى ولم يتوضأ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر کے ساتھ کھانا کھایا تو انہوں نے بغیر وضو کئے نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 537
٥٣٧ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة عن إبراهيم: أن علقمة والأسود كانا مع عبد اللَّه وهو يريد المسجد فتلقي يحفنة من ثريد -وهو في الرحبة- قال: فجلس وأكل منها هو وعلقمة والأسود، قال: ثم دعا بماء؛ فمضمض فاه وغسل يديه من غمر اللحم، ثم دخل فصلى (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علقمہ اور حضرت اسود دونوں حضرت ابن مسعود کے ساتھ مسجد جا رہے تھے۔ اتنے میں ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا تو ایک جگہ بیٹھ کر تینوں حضرات نے کھایا۔ پھر پانی منگوا کر کلی کی اور اپنے ہاتھوں سے گوشت کی چکنائی صاف کی، پھر مسجد میں داخل ہو کر نماز ادا کی۔
حدیث نمبر: 538
٥٣٨ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن وهب بن كيسان عن جابر: أن أبا بكر أكل خبزا ولحما، فما زاد على أن مضمض فاه، وغسل يديه ثم صلى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے روٹی اور گوشت کھایا، پھر کلی کی، ہاتھ دھوئے اور نماز ادا فرمائی۔
حدیث نمبر: 539
٥٣٩ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن خالد عن عكرمة عن ابن عباس قال: الوضوء مما خرج وليس مما دخل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جسم سے خارج ہونے والی چیز سے وضو ٹوٹتا ہے جسم میں داخل ہونے والی چیز سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
حدیث نمبر: 540
٥٤٠ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين عن مجاهد قال: ما رأيت ابن عمر متوضئًا من طعام قط؛ كان يلعق أصابعه الثلاث، ثم يمسح يده بالتراب، ثم يقوم إلى الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کبھی کھانے کی وجہ سے وضو کرتے نہیں دیکھا۔ وہ کھانے کے بعد اپنی تین انگلیاں چاٹ لیتے۔ پھر اپنے ہاتھ کو مٹی سے صاف کرتے اور نماز کے لئے تشریف لے جاتے
حدیث نمبر: 541
٥٤١ - حدثنا وكيع عن مسعر (١) قال: قلت لجبلة: أسمعت ابن عمر يقول: (إني) (٢) لآكل اللحم، وأشرب اللبن، وأصلي، ولا أتوضأ؟ قال: نعم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ میں نے جبلہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میں گوشت کھا کر اور دودھ پی کر نماز پڑھتا ہوں اور وضو نہیں کرتا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں سنا ہے۔
حدیث نمبر: 542
٥٤٢ - حدثنا هشيم عن حصين عن يحيى بن وثاب عن ابن عباس قال: الوضوء مما (١) خرج، وليس مما دخل، ولا مما أوطيء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جسم سے نکلنے والی چیز سے وضو ٹوٹتا ہے جسم میں داخل ہونے والی چیز اور پاؤں پر لگ جانے والی گندگی سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
حدیث نمبر: 543
٥٤٣ - [حدثنا هشيم (عن) (١) حصين عن عكرمة قال: الوضوء مما خرج وليس مما دخل] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جسم سے نکلنے والی چیز سے وضو ٹوٹتا ہے، داخل ہونے والی چیز سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
حدیث نمبر: 544
٥٤٤ - حدثنا غندر ووكيع عن شعبة عن محمد بن (عبد الرحمن بن زرارة) (١): أنه سمع محمد بن عمرو بن أبي يحدث عن أم الطفيل امرأة أُبي: أن أُبيا كان يأكل الثريد ويمضمض فاه ويصلي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی کی بیوی حضرت ام طفیل فرماتی ہیں کہ حضرت ابی ثرید کھانے کے بعد کلی کر کے نماز پڑھ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 545
٥٤٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن صالح أبي الخليل عن عبد اللَّه بن الحارث بن نوفل عن أم حكيم ابنة الزبير: أن رسول اللَّه ﷺ دخل على (ضباعة) (١)، (فنهش) (٢) عندها من كتف، ثم خرج إلى الصلاة، ولم يتوضأ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام حکیم بنت الزبیر فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ضباعہ کے یہاں تشریف لائے اور شانے کا گوشت تناول فرمایا۔ پھر آپ نماز کے لئے تشریف لے گئے اور آپ نے وضو نہیں فرمایا۔
حدیث نمبر: 546
٥٤٦ - حدثنا مرحوم بن عبد العزيز عن أبيه قال: رأيت (أبا السوار) (١) العدوي أكل ثريدا ولحما، ثم قام، فصلى، ولم يتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد العزیز فرماتے ہیں کہ میں نے ابو السوار عدوی کو دیکھا کہ انہوں نے ثرید اور گوشت کھایا پھر وضو کئے بغیر نماز ادا فرمائی۔
حدیث نمبر: 547
٥٤٧ - حدثنا عبدة بن سليمان عن إسماعيل عن الشعبي قال: بئس الطعام طعام يتوضأ منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں وہ برا کھانا ہے جس کے بعد وضو کیا جائے۔
حدیث نمبر: 548
٥٤٨ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن عبد الأعلى عن ابن الحنفية: أنه كان يأكل الثريد، ويشرب النبيذ، ويصلي ولا يتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الاعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن الحنفیہ ثرید کھاتے اور نبیذ پیتے پھر وضو کئے بغیر نماز پڑھ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 549
٥٤٩ - حدثنا إسماعيل بن علية عن ابن عون عن ابن سيرين قال: (أتيت عبيدة، فأمر بشاة فذبحت، فدعا بخبز ولبن وسمن، فأكلنا، ثم قام فصلى ولم يتوضأ؛ فظننت أنه كان أحب إليه أن يتوضأ لولا أنه أراد أن يريني (أنه) (١) ليس به بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبیدہ کے پاس آیا۔ انہوں نے بکری ذبح کرنے کا حکم دیا، بکری ذبح کی گئی پھر آپ نے روٹی، دودھ اور چربی منگوائی ہم نے سب چیزیں کھائیں، پھر انہوں نے وضو کئے بغیر نماز پڑھ لی۔ میرا ان کے بارے میں یہ گمان تھا کہ وہ وضو کرنا پسند کرتے ہیں لیکن شاید وہ دکھانا چاہتے تھے کہ وضو نہ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 550
٥٥٠ - حدثنا حسين عن زائدة عن عبد العزيز بن رفيع عن ابن أبي مليكة وعكرمة عن عائشة: أن النبي ﷺ كان يمر بالقدر، (فيتناول) (١) منها العرق، فيصيب منه، ثم يصلي ولم يتوضأ، ولم يمس ماء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزرتے ہوئے ہانڈی سے گوشت لے کر کھالیتے پھر بغیر وضو کئے اور بغیر پانی کو چھوئے نماز ادا فرما لیتے۔
حدیث نمبر: 551
٥٥١ - حدثنا يحيى بن سعيد (عن أبي جعفر الخطمي) (١) عن محمد بن كعب قال: كان عبد اللَّه بن يزيد يأكل اللحم والثريد، فيصلي ولا يتوضأ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کعب فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن یزید گوشت اور ثرید کھاتے پھر بغیر وضو کئے نماز پڑھ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 552
٥٥٢ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سمعت عثمان مولى ثقيف يحدث عن أبي زياد قال: شهدت ابن عباس وأبا هريرة وهم ينتظرون جديا لهم في التنور، فقال ابن عباس: (أخرجوه لنا لا يفتنا في الصلاة)، فأخرجوه، فأكلوا منه، ثم أن أبا هريرة توضأ، فقال له ابن عباس: (أكلنا) (١) رجسا؟ قال: فقال أبو هريرة: أنت خير مني وأعلم ثم صلوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زیاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابوہریرہ کو دیکھا کہ وہ تنور میں بھونی جانے والی بکری کے پکنے کا انتظار کر رہے تھے۔ اتنے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اسے لے آؤ کہیں ہماری نماز خراب نہ ہوجائے (یعنی بھوک کی شدت کی وجہ سے) پس اسے نکالا گیا اور سب نے اسے کھایا۔ پھر حضرت ابوہریرہ وضو کرنے لگے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا ” کیا ہم نے کوئی ناپاک چیز کھائی ہے ؟ “ اس پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپ مجھ سے بہتر ہیں اور مجھ سے زیادہ جانتے ہیں “ پھر سب نے نماز پڑھ لی۔