کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان حضرات کا بیان جو عورت کے پس ماندہ سے وضو کرنے کو نا پسندیدہ خیال کرتے ہیں
حدیث نمبر: 356
٣٥٦ - حدثنا إسماعيل بن علية عن سليمان التيمي قال: حدثنا (أبو حاجب) (١) عن (رجل) (٢) من بني (غفار) (٣) -من أصحاب النبي ﷺ قال: نهى رسول اللَّه ﷺ أن يتوضأ الرجل بفضل طهور المرأة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایک غفاری صحابی روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت کے پس ماندہ پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 356
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الطبراني (٣١٥٧) والبيهقي ١/ ١٩٢ والدارقطني ١/ ٥٣، وجاء مسمى الحكم ابن عمرو عند: أحمد ٥/ ٦٦ والترمذي (٦٤) وأبي داود (٨٢) وابن ماجه (٣٧٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 356، ترقيم محمد عوامة 356)
حدیث نمبر: 357
٣٥٧ - حدثنا وكيع عن عمران بن حدير عن (سوادة) (١) بن عاصم قال: انتهيت إلى الحكم الغفاري وهو بالمربد، وهو ينهاهم عن فضل طهور المرأة، فقلت: ألا حبذا صفرة ذراعيها، ألا حبذا كذا؟ فأخذ شيئا فرماه به، وقال: لك ولأصحابك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوادہ بن عاصم کہتے ہیں کہ میں نے مقام مربد میں حکم غفاری سے ملاقات کی۔ وہ لوگوں کو عورت کے پس ماندہ پانی سے منع کرتے تھے، میں نے ان سے کہا کہ ” عورت کے بازوؤں کی زردی کتنی اچھی ہوتی ہے ! “ انہوں نے ایک چیز کو پکڑ کر غصے سے پھینکا اور فرمایا ” تیرے لئے اور تیرے ساتھیوں کے لئے اچھی ہوگی “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 357
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الطحاوي ١/ ٢٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 357، ترقيم محمد عوامة 357)
حدیث نمبر: 358
٣٥٨ - حدثنا وكيع عن المسعودي عن المهاجر أبي الحسن عن كلثوم بن عامر: أن جويرية (بنت) (١) الحارث توضأت، فأردت أن أتوضأ بفضل وضوئها، فنهتني (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کلثوم بن عامر فرماتی ہیں کہ جویریہ بنت حارث نے ایک مرتبہ وضو کیا، میں نے ان کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا چاہا تو انہوں نے مجھے روک دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 358
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 358، ترقيم محمد عوامة 358)
حدیث نمبر: 359
٣٥٩ - حدثنا عبدة بن (سليمان) (١) عن (سعيد) (٢) عن قتادة عن سعيد بن المسيب والحسن: أنهما كانا يكرهان فضل طهورها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب اور حسن بصری عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کو ناپسندیدہ خیال کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 359
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 359، ترقيم محمد عوامة 359)
حدیث نمبر: 360
٣٦٠ - حدثنا حفص بن غياث عن عمرو عن الحسن قال: نُهي أن يتوضأ الرجل بفضل وضوء المرأة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ مرد کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ وہ عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 360
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 360، ترقيم محمد عوامة 360)
حدیث نمبر: 361
٣٦١ - حدثنا وكيع عن خالد بن دينار عن أبي العالية قال: كنت عند رجل من أصحاب النبي ﷺ، فأردت أن أتوضأ من ماء عنده، فقال: لا توضأ به، فإنه فضل امرأة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ کہتے ہیں کہ میں ایک صحابی کے پاس تھا، اس اثنا میں، میں نے عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا چاہا تو انہوں نے مجھے منع کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 361
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وانظر حديث رقم [٣٩٥].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 361، ترقيم محمد عوامة 361)
حدیث نمبر: 362
٣٦٢ - حدثنا أبو معاوية عن (عاصم) (١) عن غنيم بن قيس قال: إذا خلت المرأة بالوضوء دونك؛ فلا توضأ بفضلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غنیم بن قیس فرماتے ہیں کہ اگر عورت تم سے پہلے وضو کرلے تو تم اس کے استعمال کردہ پانی سے وضو نہ کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 362
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 362، ترقيم محمد عوامة 362)