حدیث نمبر: 274
٢٧٤ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن هلال بن يساف عن سلمة بن قيس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا توضأت فانتثر، وإذا استجمرت فأوتر" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن قیس فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” جب تم وضو کرو تو ناک بھی صاف کرو اور جب استنجاء کرو تو طاق عدد میں پتھر استعمال کرو۔ “
حدیث نمبر: 275
٢٧٥ - حدثنا (يحيى بن سليم) (١) الطائفي عن إسماعيل بن كثير عن عاصم بن لقيط بن صبرة عن أبيه قال: قلت يا رسول اللَّه أخبرني عن الوضوء. قال: "اسبغ الوضوء، وبالغ في الاستنشاق، إلا أن تكون صائما" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لقیط بن صبرہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا ” یا رسول اللہ ! مجھے وضو کے بارے میں بتا دیجیے “ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” خوب اچھی طرح پورا پورا وضو کرو اور اچھی طرح ناک صاف کرو البتہ اگر روزہ ہو تو ناک صاف کرنے میں مبالغہ مت کرو “
حدیث نمبر: 276
٢٧٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي (بشر) (١) قال: سمعت (عمرًا) (٢) العنبري: أنه أبصر عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة (توضأ) (٣) فنسي أن يستنشق فلما ولى الغلام بالكوز قال: نسيت أمر رسول اللَّه، فدعا بماء، فاستنشق مرتين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر عنبری فرماتے ہیں کہ حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے ایک مرتبہ وضو کیا لیکن وہ ناک صاف کرنا بھول گئے۔ لڑکا وضو کا برتن لے جا چکا تھا۔ آپ نے فرمایا ” میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک حکم بھول گیا “ پھر اسے بلا کر دو مرتبہ ناک میں پانی ڈالا۔
حدیث نمبر: 277
٢٧٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (إبراهيم) (١) عن عبد الرحمن بن يزيد قال: إن للشيطان قارورة (فيها نفوخ) (٢)، فإذا قاموا في الصلاة انشقهموها؛ فأمروا عند ذلك بالاستنثار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ شیطان کے پاس ایک شیشی ہے جس میں سفوف جیسی کوئی چیز ہے، جب لوگ نماز کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ ان کی طرف اسے پھونک دیتا ہے۔ اسی وجہ سے ناک صاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 278
٢٧٨ - حدثنا وكيع وإسحاق الرازي عن ابن أبي ذئب عن قارظ بن شيبة عن (أبي غطفان) (١) عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "استنشقوا اثنتين بالغتين، أو ثلاثًا"، وقال وكيع: استنثروا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وضو میں دو یا تین مرتبہ اچھی طرح ناک صاف کرو۔
حدیث نمبر: 279
٢٧٩ - حدثنا أبو بكر عن (مغيرة) (١) عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون أن يكون الاستنشاق بمنزلة السعوط.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ ناک میں پانی اس مبالغہ سے ڈالا جائے جیسے دوائی ڈالی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 280
٢٨٠ - حدثنا زيد بن الحباب عن مالك بن أنس عن الزهري عن أبي إدريس الخولاني عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ قال: "من توضأ، (فلينثر) (١)، ومن استجمر، فليوتر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو وضو کرے تو وہ ناک کو بھی صاف کرے اور جو استنجا کرے تو وہ طاق عدد میں پتھر استعمال کرے۔ “
حدیث نمبر: 281
٢٨١ - حدثنا وكيع عن أبي (هلال) (١) عن ابن سيرين قال كانوا يمضمضون ويستنشقون وينتثرون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کلی کیا کرتے تھے۔ ناک میں پانی ڈالا کرتے تھے اور ناک صاف کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 282
٢٨٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (ابن) (١) أبي نجيح عن مجاهد قال: الاستنشاق شطر (الطهور) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ناک صاف کرنا وضو کا حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 283
٢٨٣ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن (حسن) (١) عن (ليث) (٢) عن مجاهد قال: الاستنشاق نصف الطهور.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ناک صاف کرنا نصف طہور ہے۔
حدیث نمبر: 284
٢٨٤ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن إبراهيم عن علقمة: أن (١) (عمر) (٢) توضأ، فنثر مرتين مرتين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو وضو کرتے دیکھا، اس میں انہوں نے دو مرتبہ ناک صاف کیا۔