حدیث نمبر: 264
٢٦٤ - حدثنا وكيع عن أبيه (عن أبي فزارة) (١) عن أبي (زيد) (٢) مولى عمرو ابن حريث عن ابن مسعود أن رسول اللَّه ﷺ قال له ليلة الجن: "عندك طهور؟ " قال: لا، إلا شيء من نبيذ (٣) في إداوة، فقال: "تمرة طيبة، وماء طهور" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لیلۃ الجن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس وضو کے لئے پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک برتن میں نبیذ ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”کھجور پاکیزہ ہے اور اس کا پانی پاک ہے۔ “
حدیث نمبر: 265
٢٦٥ - [حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن (أبي) (١) إسحاق عن الحارث عن علي: أنه كان لا يرى بأسا بالوضوء من النبيذ] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبیذ سے وضو کرنے میں کسی قسم کا حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 266
٢٦٦ - حدثنا يحيى بن سعيد عن علي بن (مبارك) (١) عن (يحيى) (٢) عن عكرمة قال: النبيذ وضوء لمن لم يجد الماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جس شخض کے پاس وضو کا پانی نہ ہو وہ نبیذ سے وضو کر لے۔
حدیث نمبر: 267
٢٦٧ - حدثنا (مروان بن) (١) معاوية عن (أبي خلدة) (٢) عن أبي العالية: أنه كره أن يغتسل بالنبيذ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ نبیذ سے غسل کرنے کو ناپسند خیال کرتے تھے۔