مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
الرجل يجامع امرأته في دون الفرج باب: اگر کوئی آدمی شرم گاہ کے بجائے عورت کے کسی اور عضو سے مباشرت کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 990
٩٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن الركين عن حصين بن قبيصة الفزاري عن علي قال: كنت رجلا مذاء، وكانت تحتي بنت رسول اللَّه ﷺ فكنت استحيي أن أسأله فأمرت رجلا فسأله فقال: " (إذا رأيت) (١) المذي؛ فتوضأ واغسل ذكرك، وإذا (رأيت) (٢) فضخ الماء؛ فاغتسل" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری بہت زیادہ مذی نکلتی تھی۔ رسول اللہ کی صاحبزادی چونکہ میرے نکاح میں تھیں اس لیے مجھے سوال کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی، چناچہ میں نے ایک آدمی سے کہا اور انہوں نے حضور سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم مذی دیکھو تو وضو کرلو اور اپنی شرم گاہ صاف کرلو اور اگر نکلتا پانی دیکھو تو غسل کرو۔
حواشی
(١) في [خ]: (إن رأيت).
(٢) في [د، هـ]: قلادة (الودي).