مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
من كره صوم الدهر باب: جن حضرات کے نزدیک ’’صومِ دہر‘‘(یعنی کچھ کھائے پئے بغیر مسلسل روزے رکھنا) مکروہ ہے
حدیث نمبر: 9810
٩٨١٠ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي عمار الهمداني عن عمرو (بن) (١) شرحبيل قال: قال رجل: يا رسول اللَّه أرأيت رجلًا يصوم الدهر كله؟ قال: "وددت (أن لا) (٢) يطعم الدهر كله"، قال: ثلثيه، قال: أكثر قال: نصفه، قال: أكثر. ثم قال رسول اللَّه ﷺ: "ألا أنبئكم ما يذهب (وحر) (٣) (الصدر) (٤) صيام ثلاثة أيام من كل شهر" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا کوئی آدمی صوم دہر رکھ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ میرے خیال میں وہ پورے دہرکا روزہ نہ رکھے۔ سوال کرنے والے نے کہا کہ اس کے دو تہائی کا رکھ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ بھی زیادہ ہے۔ اس نے کہا کہ نصفِ دہر کا روزہ رکھ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ بھی زیادہ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک ایسی مقدار بتاتا ہوں جس سے اس کے دل کے وساوس اور کھوٹ دور ہوجائیں گے، وہ ہر مہینے میں تین روزے رکھے۔
حواشی
(١) سقط من: [ص].
(٢) في [هـ]: (أنه).
(٣) في [هـ]: (حر)، وفي [ص]: (دحر).
(٤) في [ب]: (الهدر).