مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
ما قالوا في ليلة القدر واختلافهم فيها باب: شبِ قدر اور اس کے بارے میں اہلِ علم کا اختلاف
٩٧٧٨ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: (أتيت) (١) في رمضان وأنا (صائم) (٢) فقيل: أن الليلة (ليلة) (٣) القدر قال: فقمت وأنا ناعس فتعلقت ببعض أطناب فسطاط رسول اللَّه (ﷺ) (٤) فأتيت النبي (ﷺ) (٥) وهو (٦) يصلي فنظرت في الليلة فإذا هي ليلة ثلاث وعشرين قال: وقال ابن عباس: الشيطان يطلع مع الشمس كل يوم إلا ليلة القدر قال: وذلك أنها (تطلع) (٧) يومئذ لا شعاع لها (٨).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان میں سویا ہوا تھا کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ آج شبِ قدر ہے۔ میں نیند کی حالت میں بیدار ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیمہ کی ایکرسی کو پکڑ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے رات کا اندازہ لگایا تو وہ رمضان کی تیئسویں رات تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ شیطان شبِ قدر کے علاوہ ہر رات سورج کے ساتھ برآمد ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے شب قدر کے دن سورج سفید حالت میں بغیر کرنوں کے طلوع ہوتا ہے۔