حدیث نمبر: 9766
٩٧٦٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الأوزاعي عن مرثد بن أبي مرثد عن أبيه قال: كنت مع أبي (ذر) - (١) (عند) (٢) الجمرة الوسطى (فسألته) (٣) عن ليلة القدر فقال: كان (أسأل) (٤) الناس عنها رسول اللَّه ﷺ أنا، قلت: يا رسول اللَّه أخبرنا بها (فقال) (٥): "لو أذن لي فيها لأخبرتكم، ولكن التمسوها في إحدى السبعَيْنِ ثم لا ⦗٦٠⦘ (تسألْني) (٦) عنها بعد مقامك أو مقامي هذا" (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو مرثد فرماتے ہیں کہ میں جمرۂ وسطیٰ کے پاس حضرت ابو ذر غفاری کے پاس تھا۔ میں نے ان سے شبِ قدر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شب قدر کے بارے میں سب سے زیادہ سوال میں کیا کرتا تھا۔ ایک دن میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! شبِ قدر انبیاء کے زمانوں میں ہوتی ہے، جب انبیاء دنیا سے تشریف لے جاتے تو یہ رات بھی اٹھا لی جاتی تھی، کیا ایسا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں، بلکہ شبِ قدر قیامت تک باقی رہے گی۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! پھر مجھے اس کے بارے میں بتادیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے اس کے بتانے کی اجازت ہوتی تو میں تمہیں ضرور بتادیتا۔ البتہ میں اتنا کہوں گا کہ تم اسے رمضان کی آخری سات راتوں میں سے ایک میں تلاش کرو۔ اب تم مجھ سے اس بارے میں سوال مت کرنا۔

حواشی
(١) في [ص]: (موسى).
(٢) في [ك]: (قبل).
(٣) في [ز]: (سألته).
(٤) في [ك]: (أسل)، وفي [أ]: (بياض على حرف ألف في كلمة أسأل).
(٥) في [أ، ب، ص، ك]: (قال).
(٦) في [ك]: (لا يسلني)، وفي [ب]: (لا تسلني).
(٧) مجهول؛ لجهالة مرثد، هكذا قال الأوزاعي: مرثد بن أبي مرثد، أخرجه ابن خزيمة (٢١١٩) وابن حبان (٣٦٨٣) وقال بقية الرواة: مالك بن مرثد، أخرجه أحمد (٢١٤٩٩) والنسائي في الكبرى (٣٤٢٧) والحاكم ١/ ٤٣٧ والبزار (٤٠٦٨) والطحاوي ٣/ ٨٥ والبيهقي ٤/ ٣٠٧.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9766
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9766، ترقيم محمد عوامة 9606)