حدیث نمبر: 9747
٩٧٤٧ - حدثنا وكيع عن مهدي بن ميمون عن ابن سيرين قال: أصبحنا يومًا بالبصرة ولسنا ندري على ما نحن فيه من صومنا في اليوم الذي يشك فيه، فأتينا أنس ابن مالك فإذا هو قد أخذ (حريرة) (١) كان يأخذها قبل أن (يغدو) (٢) ثم (غدا) (٣)، ثم أتيت أبا السوار (٤) (العتكي) (٥) فدعا (بغدائه) (٦) (ثم تغدى) (٧)، ثم أتيت مسلم ابن (يسار) (٨) فوجدته مفطرًا (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے اور ہمیں ٣٠ شعبان کے دن اس یوم شک کا سامنا کرنا پڑا جس کے بارے میں یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا تھا کہ اس دن روزہ ہے یا نہیں ہے۔ چناچہ ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ خزیرہ نامی ایک کھانا جو دوپہر کے کھانے سے پہلے کھایا کرتے تھے وہ کھا رہے تھے۔ پھر وہاں موجود سب لوگوں نے کھانا کھایا۔ پھر میں ابو سوار عدوی کے پاس آیا انہوں نے بھی اپنا کھانا منگوا کرکھایا۔ پھر میں حضرت مسلم بن یسار کے پاس آیا تو میں نے دیکھا کہ ان کا بھی روزہ نہیں تھا۔

حواشی
(١) في [أ]: (حديرة)، وفي [ص]: (جريرة)، وفي [س]: (خزيرة)، وفي [ب، هـ]: (حديدة).
(٢) في [ص]: (يقدم) وفي [ز]: (تغدوا).
(٣) في [ب، ص، ك]: (غدوا) وسقطت (ثم غدا) من: [أ].
(٤) في [ص] زيادة: (و).
(٥) كذا في النسخ، والمعروف أنه: (العدوي).
(٦) في [ص]: (بغديد).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [ص]: (سيار).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9747
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9747، ترقيم محمد عوامة 9587)