مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
ما قالوا في اليوم الذي يشك فيه (يصام) باب: یومِ شک کے روزے کے بارے میں، کیا اس دن روزہ رکھا جاسکتا ہے؟
٩٧٤٧ - حدثنا وكيع عن مهدي بن ميمون عن ابن سيرين قال: أصبحنا يومًا بالبصرة ولسنا ندري على ما نحن فيه من صومنا في اليوم الذي يشك فيه، فأتينا أنس ابن مالك فإذا هو قد أخذ (حريرة) (١) كان يأخذها قبل أن (يغدو) (٢) ثم (غدا) (٣)، ثم أتيت أبا السوار (٤) (العتكي) (٥) فدعا (بغدائه) (٦) (ثم تغدى) (٧)، ثم أتيت مسلم ابن (يسار) (٨) فوجدته مفطرًا (٩).حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے اور ہمیں ٣٠ شعبان کے دن اس یوم شک کا سامنا کرنا پڑا جس کے بارے میں یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا تھا کہ اس دن روزہ ہے یا نہیں ہے۔ چناچہ ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ خزیرہ نامی ایک کھانا جو دوپہر کے کھانے سے پہلے کھایا کرتے تھے وہ کھا رہے تھے۔ پھر وہاں موجود سب لوگوں نے کھانا کھایا۔ پھر میں ابو سوار عدوی کے پاس آیا انہوں نے بھی اپنا کھانا منگوا کرکھایا۔ پھر میں حضرت مسلم بن یسار کے پاس آیا تو میں نے دیکھا کہ ان کا بھی روزہ نہیں تھا۔