مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
ما قالوا في الصائم يتوضأ فيدخل الماء حلقه باب: اگر وضو کرتے ہوئے روزہ دار کے حلق میں پانی چلا جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 9739
٩٧٣٩ - حدثنا (مخلد) (١) (عن) (٢) ابن جريج قال إنسان لعطاء: (استنثرت) (٣) ⦗٥٢⦘ (فدخل) (٤) الماء حلقي؟ (٥) (قال: لا) (٦) بأس (٧) لم تملك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عطاء سے عرض کیا کہ میں ناک صاف کررہا تھا کہ پانی میرے حلق میں چلا گیا، اس میں کوئی حرج تو نہیں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں اس میں کوئی حرج نہیں، تم اس کا اختیار نہیں رکھتے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، ص، ط، ك، هـ]: (محمد)، وفي فتح الباري ٤/ ١٥٥، وتغليق التعليق ٣/ ١٦٩: (مخلد).
(٢) سقط من: [أ، ص، ز، ك، هـ].
(٣) في [هـ]: (استنثر)، وفي [أ]: (استاثرت)، وفي [ب]: (استنثر).
(٤) في [ب]: (فيدخل).
(٥) زيادة في [أ، ب، ك]: (فلا بأس) وسقط من: [هـ، ص].
(٦) في [ص]: (قالا).
(٧) في [هـ] زيادة: (ما).