حدیث نمبر: 9739
٩٧٣٩ - حدثنا (مخلد) (١) (عن) (٢) ابن جريج قال إنسان لعطاء: (استنثرت) (٣) ⦗٥٢⦘ (فدخل) (٤) الماء حلقي؟ (٥) (قال: لا) (٦) بأس (٧) لم تملك.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عطاء سے عرض کیا کہ میں ناک صاف کررہا تھا کہ پانی میرے حلق میں چلا گیا، اس میں کوئی حرج تو نہیں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں اس میں کوئی حرج نہیں، تم اس کا اختیار نہیں رکھتے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، س، ص، ط، ك، هـ]: (محمد)، وفي فتح الباري ٤/ ١٥٥، وتغليق التعليق ٣/ ١٦٩: (مخلد).
(٢) سقط من: [أ، ص، ز، ك، هـ].
(٣) في [هـ]: (استنثر)، وفي [أ]: (استاثرت)، وفي [ب]: (استنثر).
(٤) في [ب]: (فيدخل).
(٥) زيادة في [أ، ب، ك]: (فلا بأس) وسقط من: [هـ، ص].
(٦) في [ص]: (قالا).
(٧) في [هـ] زيادة: (ما).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9739
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9739، ترقيم محمد عوامة 9579)