حدیث نمبر: 9728
٩٧٢٨ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج قال: قلت لعطاء أرأيت أن أصبح أهل مكة مفطرين أو رجل أو رجلان ثم جاءهم أن قد رئي الهلال فجاءهم الخبر بذلك من أول النهار أو من آخر النهار كانوا يصومون بقية يومهم أو يقضونه بعد قال: يأكلون ويشربون إن شاءوا ولم يوجب عليهم أن يصوموا (بقية يومهم) (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے کہا کہ اگر مکہ کے کچھ لوگ روزہ دار نہ ہونے کی حالت میں صبح کریں، یا ایک یا دو آدمی روزہ دار نہ ہونے کی حالت میں صبح کریں، پھر کچھ دیر بعد کوئی آدمی آئے اور کہے کہ گذشتہ رات چاند دیکھ لیا گیا تھا، یہ خبر ان کے پاس دن کے ابتدائی یا انتہائی حصہ میں آئی، تو کیا وہ باقی دن روزہ رکھیں یا بعد میں اس روزے کی قضا کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ چاہیں تو کھاتے پیتے رہیں باقی دن میں روزہ رکھنا ان پر ضروری نہیں ہے۔

حواشی
(١) في [أ]: (بكير).
(٢) في [أ، ك]: (بقيته) وسقطت كلمة (يومهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9728
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9728، ترقيم محمد عوامة 9569)