حدیث نمبر: 9726
٩٧٢٦ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عمرو بن مهاجر أن محمد بن سويد الفهري أفطر أو ضحى قبل الناس بيوم، فكتب إليه عمر بن عبد العزيز: ما حملك على أن أفطرت قبل الناس؟ فكتب إليه محمد أنه شهد (عندي حزام) (١) ابن حكيم القرشي أنه رأى الهلال، فكتب إليه عمر: (أو حد) (٢) الناس أو ذو اليدين هو؟.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمرو بن مہاجر فرماتے ہیں کہ محمد بن سوید فہری نے لوگوں سے ایک دن پہلے عید الفطر یاعیدا لاضحی منائی۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے انہیں خط لکھ کر اس کی وجہ پوچھی تو محمد نے ان کی طرف خط لکھا کہ حزام بن حکیم قرشی نے میرے سامنے چاند دیکھنے کی گواہی دی۔ حضر ت عمر بن عبد العزیز نے انہیں خط لکھا کہ کیا ایک آدمی کی گواہی پر ؟ کیا وہ دو آدمیوں کے برابر ہوسکتے ہیں ؟

حواشی
(١) في [أ]: (عبد حرام).
(٢) في [أ، جـ، هـ]: (أو أحد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9726
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9726، ترقيم محمد عوامة 9567)