مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
من كان يقول: لا (يجوز إلا بشهادة) رجلين باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں کی گواہی کا اعتبار ہوگا
حدیث نمبر: 9720
٩٧٢٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن عاصم عن أبي عثمان قال: قدم على رسول اللَّه ﷺ رجلان وافدان أعرابيان فقال لهما رسول اللَّه ﷺ "أمسلمان أنتما؟ " قالا: نعم، فقال لهما: "أهللتما؟ " قالا: نعم، فأمر الناس فأفطروا أو (صاموا) (١) (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ دو دیہاتی اکھٹے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم دونوں مسلمان ہو ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نے چاند دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو روزہ رکھنے یا عید منانے کا حکم دے دیا۔
حواشی
(١) في [ب]: (وصاموا).