مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
من كان يجيز شهادة شاهد على (رؤية الهلال) باب: جو حضرات چاند کی رؤیت پر ایک آدمی کی گواہی کو بھی کافی سمجھتے تھے
حدیث نمبر: 9719
٩٧١٩ - حدثنا حسين بن علي (عن) (١) زائدة عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: جاء (٢) أعرابي إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إني رأيت الهلال الليلة، قال: "تشهد أن لا إله الا اللَّه وأن محمدًا عبده ورسوله؟ "، قال: نعم. قال: "يا بلال ناد في الناس (فليصوموا) (٣) غدًا" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں نے گذشتہ کل چاند دیکھا تھا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے بلال لوگوں میں اعلان کردو کہ کل روزہ رکھیں۔
حواشی
(١) في [ص]: (بن).
(٢) في [أ، هـ]: زيادة (رجل).
(٣) في [ب، هـ]: (يصوموا).