مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
في الهلال يرى نهارا: أيفطر أم لا؟ باب: اگر دن کے وقت چاند نظر آجائے تو روزہ توڑ دیا جائے گا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 9709
٩٧٠٩ - حدثنا محمد بن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان عتبة بن فرقد (غائبًا) (١) بالسواد، فأبصروا الهلال من آخر النهار، فأفطروا (٢) فبلغ ذلك عمر، فكتب إليه: إن الهلال إذا رئي من أول النهار فإنه (لليوم) (٣) الماضي، فأفطروا، فإذا رئي (٤) من آخر النهار فإنه لليوم (الجائي) (٥) فأتموا (الصيام) (٦) (٧).مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن فرقد دیہاتوں میں روپوش تھے۔ لوگوں نے دن کے آخری حصہ میں چاند دیکھا اور روزہ افطار کرلیا۔ یہ بات حضرت عمر کو پہنچی تو آپ نے خط لکھا جس میں فرمایا کہ چانداگردن کے شروع میں دیکھا جائے تو گذشتہ دن کا چاند ہے اس پر تم افطارکر لو اور اگر چاند دن کے آخری حصہ میں نظر آئے تو یہ آنے والے دن کا چاند ہے اس پر روزے کو پورا کرو۔
حواشی
(١) في [أ]: (غايب) وفي [هـ]: (غاب).
(٢) زيادة في [أ]: (فإذا لا قامن آخر النهار فأفطروا).
(٣) في [أ، ز]: (اليوم).
(٤) في [هـ] زيادة: (هلال).
(٥) في [ب، ز، هـ]: (الجاري).
(٦) في [ص، ز، ك]: (الصوم).
(٧) منقطع؛ إبراهيم لا يروي عن عمر.