مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
في الهلال يرى نهارا: أيفطر أم لا؟ باب: اگر دن کے وقت چاند نظر آجائے تو روزہ توڑ دیا جائے گا یا نہیں؟
٩٧٠٨ - حدثنا أبو داود عن عمر بن فروخ عن صالح الدهان قال: رئي هلال (آخر) (١) رمضان نهارًا فوقع الناس في الطعام والشراب ونفر من الأزد معتكفين فقالوا: يا صالح أنت رسولنا إلى جابر بن زيد، فأتيت جابر بن زيد فذكرت ذلك له، قال: أنت ممن رأيته؟ قلت: نعم قال: أبين يدي الشمس رأيته (أو) (٢) رأيته خلفها قلت: لا، بين يديها. قال: فإن يومكم هذا من رمضان إنما رأيتموه في مسيره ⦗٤٤⦘ (فمر) (٣) أصحابك يتمون صومهم واعتكافهم.حضرت صالح دہان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان کے آخری دن دوپہر کے وقت چاند نظر آگیا۔ چاند دیکھ کر لوگ کھانے پینے میں مشغول ہوگئے۔ اس وقت ازد کی ایک جماعت اعتکاف میں بیٹھی تھی۔ انہوں نے کہا اے صالح ! آپ جابر بن زید کی طرف ہمارے قاصد بن کر جائیں۔ میں ان کے پاس گیا اور ان سے ساری بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم نے بھی چاند دیکھا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا کہ تم نے اسے سورج کے سامنے دیکھا ہے یا سورج کے پیچھے ؟ میں نے کہا میں نے اسے سورج کے سامنے دیکھا ہے۔ حضرت جابربن زید نے فرمایا کہ تمہارا آج کا دن رمضان کا دن ہے، تم نے چاند کو اس کی جولان گاہ میں دیکھا ہے۔ اپنے ساتھیوں کو حکم دو کہ روزے اور اعتکاف کو مکمل کریں۔