مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
في الهلال يرى نهارا: أيفطر أم لا؟ باب: اگر دن کے وقت چاند نظر آجائے تو روزہ توڑ دیا جائے گا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 9707
٩٧٠٧ - حدثنا يحيى بن سعيد (القطان) (١) (عن سفيان) (٢) عن الركين عن أبيه قال: كنا مع (سلمان) (٣) بن ربيعة (ببلنجر) (٤) فرأينا هلال شوال يوم تسع وعشرين ضحى فقال: أرنيه، فأريته، فأمر الناس فأفطروا (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت رکین کے والد فرماتے ہیں کہ ہم مقام بلنجر میں حضرت سلمان بن ربیعہ کے ساتھ تھے۔ ہم نے انتیس رمضان کو چاشت کے وقت شوال کا چاند دیکھا۔ حضرت سلمان نے فرمایا کہ مجھے بھی دکھاؤ۔ میں نے انہیں چاند دکھایا تو انہوں نے لوگوں کو روزہ توڑنے کا حکم دے دیا۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ص، ز، ك].
(٢) سقط من: [ص].
(٣) في [هـ]: (سليمان).
(٤) في [هـ]: (السنجر).