حدیث نمبر: 9675
٩٦٧٥ - حدثنا أبو أسامة عن (عمر) (١) بن حمزة قال: أخبرني سالم عن ابن عمر قال: (قال عمر) (٢): رأيت رسول اللَّه ﷺ في المنام فرأيته لا (ينظر إليّ) (٣) فقلت: يا رسول اللَّه ما شأني؟ فقال: " (ألست) (٤) الذي تقبل وأنت صائم؟ "، قال: فوالذي بعثك بالحق لا أقبل بعدها وأنا صائم (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے اپنا ایک خواب بیان کیا کہ میں خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے نہیں دیکھ رہے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ مجھے کیوں نہیں دیکھ رہے ؟ آپ نے فرمایا کہ کیا تم روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ نہیں لیتے ؟ حضرت عمر نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، میں آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گا۔

حواشی
(١) في [أ، ز، ك، هـ]: (عمرو).
(٢) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٣) سقط من: [ك].
(٤) في [ب]: (أنت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9675
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عمر بن حمزة ضعيف، أخرجه إسحاق كما في المطالب (١٠٦٢) وأبو نعيم في الحلية ١/ ٤٥ والطحاوي ٢/ ٨٨ والبزار (١/ ٤٧٩/ كشف) والبيهقي ٤/ ٢٣٢ وابن عدي ٥/ ١٦٧٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9675، ترقيم محمد عوامة 9516)